اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 34
۳۴ البقرة ٢ هَارُوتَ وَمَارُوتَ وَمَا يُعَلِّمُنِ مِنْ کا جو اتارا گیا بابل میں ہاروت و ماروت دو فرشتوں پر اور وہ دونوں نہیں سکھاتے تھے کسی ایک احَدٍ حَتَّى يَقُوْلَا إِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا کو یہاں تک کہ کہہ لیتے تھے کہ ہم بُرے بھلے کی (بقیہ حاشیہ) ہوگئی عجز و انکسار جاتا رہا۔حرام کاری اور شرک اور زنا اور ظلم و تعدی غرض بہت بدذاتیاں پھیل گئیں تو ایک زبر دست قوم کو اللہ تعالیٰ نے اُن پر مسلط کیا۔فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ أَو للهُمَا الخ (الاسراء:۲) ۷۰ برس ذلت کی بلا میں مبتلا ر ہے۔جب بابل میں دکھوں کا زمانہ بہت لمبا ہو گیا اور لوگ دنیا سے بیزار ہو کر صلحاء بن گئے حتی کہ دانیال اور عزرا، حز قیل، ارمیا و نحمیاہ جیسے بزرگ برگزیدہ بندگان خدا پیدا ہوئے اور انہوں نے جناب الہی میں خشوع خضوع سے دعائیں کیں اُن کو الہام ہوا کہ وہ نسل جس نے گناہ کیا تھا وہ تو ہلاک ہو چکی۔اب ہم تمہاری خبر گیری کرتے ہیں جو اصل کے قائم مقام ہو۔تمہاری حیات و بقا اگلی پچھلی قوم کی حیات و بقا ہے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کے کام دو طرح کے ہوتے ہیں ایک تو وہ جس میں انسان کو مطلق دخل نہ ہو۔مثلاً سردی میں آفتاب ہم سے دور چلا جاتا ہے اور گرمی میں قریب آجاتا ہے۔آگ میں حرارت، پانی میں بردیت وغیرہ۔دوسرے وہ کام جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی معرفت ان کو شرف دینے کے لئے کراتا ہے۔چنانچہ دانیال وغیرہ برگزیدہ بندوں کو اللہ نے سمجھایا کہ یہ زبردست بادشاہ اب ہلاک ہونے والا ہے ( بخت نصر ) پس تم مید و فارس کے بادشاہوں سے تعلق پیدا کرو کیونکہ یہ سفاک قوم وسلطنت تباہ ہو جائے گی۔اللہ نے دوفرشتے ہاروت و ماروت اس کام کے لئے نازل فرمائے۔ھرت زمین کے صاف کرنے کو کہتے ہیں اور موت زمین کو بالکل چٹیل میدان بنا دینا۔گویا یہ امران فرشتوں کے فرض میں داخل تھا کہ ظالموں کو تباہ کر دیں اور بنی اسرائیل کو ان کے ملک میں بسائیں۔پس ہاروت ماروت نبیوں کی معرفت ایسی باتیں لوگوں کو سکھاتے تھے جو کامیابی کا ذریعہ تھیں۔ساتھ ہی یہ بھی ہدایت کرتے تھے کہ ان تجاویز کو بالکل مخفی رکھو یہاں تک کہ اپنی بیبیوں کو بھی نہ بتاؤ۔وجہ یہ کہ عورتیں کمزور ہوتی ہیں۔اغلب ہے کہ وہ کسی دوسرے سے کہہ دیں۔اسی طرف اشارہ ہے مَا يُفَرِّقُونَ بِهِ بَيْنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِهِ (البقرة : ۱۰۳)۔یعنی وہ ایسا واقعہ یا راز تھا جو میاں بی بی کے اندر افتراق کرتا تھا۔الحاصل جب یہ منصوبہ پختہ ہو گیا اور مید و فارس کے ذریعہ بابل تباہ ہو گیا۔بنی اسرائیل کو خدا نے بچایا ،نئی زندگی دی اور دشمنوں کو جس قدر ضرر پہنچایا گیا تو چونکہ وہ اللہ کے اذن سے تھا، اسی واسطے نحمیاہ وغیرہ کامیاب ہوئے۔قصہ کا تعلق ہمارے حضور سید المرسلین بهترین از اولین و آخرین عے سے یہ ہے کہ جب آپ مدینہ طیبہ میں تشریف لائے تو مکہ والوں کو بڑا غیظ و غضب پیدا ہوا۔پس انہوں نے یہودیوں سے دوستی گانٹھی۔یہودی خاندانی پر ا نا نسخہ استعمال کرانے لگے کہ آؤ کسی سلطنت سے مل کر اِس سُلطان السلاطین محمد - احمد الا اللہ کی سلطنت کا استیصال کر دیں۔اسی لئے ایرانیوں سے توسل پیدا کیا۔ایرانیوں کے گورنر بعض عرب کے