اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 412
واعلموا ١٠ ۴۱۲ التوبة يَحْلِفُونَ بِاللهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا ۴۔وہ قسمیں کھاتے ہیں اللہ کی کہ انہوں نے كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ کلمہ کفر نہیں بولا حالانکہ انہوں نے بے شک کلمہ کفر بولا اور مرتد ہو گئے اسلام کے بعد اور 色 وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا وَمَا نَقَمُوا إِلَّا ارادہ کر لیا اُس کا جس کو نہ پایا اور یہ بُرا بدلہ نہیں أَنْ أَغْنُهُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ مِنْ فَضْلِهِ دیتے مگر اس بات کا کہ ان کو غنی کر دیا ہے اللہ فَإِنْ يَتُوبُوْايَكَ خَيْرًا لَّهُمْ ۚ وَإِنْ يَتَوَلَّوْا اور اس کے رسول نے اپنی مہربانی سے، تو اگر وہ رجوع بحق کر لیں تو وہ ان کے حق میں بہتر ہے يُعَذِّبُهُمُ الله عَذَابًا أَلِيمًا في الدُّنْيَا اور اگر وہ نہ مانیں گے اور منہ پھیر لیں گے تو وَالْآخِرَةِ ۚ وَمَالَهُمْ فِي الْأَرْضِ مِنْ وَلِيّ الله ان کوٹیں دینے والا عذاب دے گا دنیا ہی میں اور آخرت میں بھی اور ملک میں ان کا کوئی ولَا نَصِيرِ حمایتی اور مددگار نہ ہو گا۔وَمِنْهُم مَّنْ عُهَدَ اللهَ لَبِنْ النَا مِنْ ۷۵۔اور بعض ان میں سے ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کر لیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنے فضل فَضْلِهِ لَنَصَّدَّقَنَّ وَلَنَكُونَنَّ مِنَ سے دے گا تو ضرور ہم خیرات کیا کریں گے اور الصَّلِحِينَ ضرور نیک بندوں میں سے بن جائیں گے۔آیت نمبر ۷۴ - يَحْلِفُونَ بِاللهِ۔یہ بھی منافقوں کی علامت ہے کہ قسمیں بہت کھاتے ہیں وَهَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا۔یعنی ایسی چال چلے جس میں نا کامیابی حاصل ہوئی۔اس آیت شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق اپنی تدبیروں میں اکثر ناکامیاب ہوتے ہیں۔منافقوں کی قرآن مجید وحدیث شریف میں بہت سی عادات و حالات کا ذکر ہے ایک اس میں سے یہ بھی ہے کہ هَمُّوا بِمَا لَمْ يَنَالُوا اس میں شیعوں کا بھی رڈ ہے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام نے خلافت اولیٰ کی خواہش کی ہوتی تو وہ کامیاب ہو جاتے۔عَذَابًا أَلِيمًا فِي الدُّنْیا۔یہ پیشگوئیاں ہیں اور دنیا کے عذاب و پیشگوئیوں کا ظہور آخرت کے عذاب اور پیشگوئیوں کے ظہور کی مثبت ہیں۔صحابہ تو کامیاب رہے۔شیعوں سے پوچھو وہ منافق کیسے تھے؟ آیت نمبر ۷۵۔مَنْ عُهَدَ الله۔بہت معاہدے اور منتیں نہ کرنا چاہئے بلکہ جو نیکی ہو سکے وہ فورا کر دینا چاہئے۔کیونکہ کہیں نقص عہد نہ ہو جائے جو موجب نفاق ہے۔وَهُمْ مُعْرِضُونَ۔خدا سے عہد کر کے بد عہدی کرنا۔اس کی منت پوری نہ کرنا۔جھوٹ بولنا موجب نفاق ہے۔ہر گناہ کی اصل خدا نے بتائی ہے۔