اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 409
واعلموا ۱۰ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُ وَنَ ۴۰۹ التوبة اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی ٹھٹھا کرتے تھے!! لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ ۲۶۔بہانے اور حیلے نہ بناؤ بے شک تم کافر ہو اِيْمَانِكُمُ اِنْ لَّعْفُ عَنْ طَائِفَةِ گئے ایمان کے بعد اگر ہم معاف بھی کر دیں تم میں سے ایک جماعت کو تو بھی سزا دیں گے مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَابِفَةً بِأَنَّهُمْ كَانُوا ایک جماعت کو اس وجہ سے کہ وہ جناب الہی مُجْرِمِينَ دم سے قطع تعلق کرنے والی جماعت تھی۔الْمُنْفِقُونَ وَالْمُنْفِقْتُ بَعْضُهُمُ مِن ۲۷ - منافق مرد اور منافق عورتیں سب کی ایک بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ ہی روش ہے وہ بُرے کاموں کا حکم دیتے ہیں اور اچھی بات سے روکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بند الْمَعْرُوفِ وَيَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ نَسُوا کر لیتے ہیں۔انہوں نے اللہ کو چھوڑ دیا تو اللہ اللهَ فَنَسِيَهُمْ اِنَّ الْمُنْفِقِينَ هُمُ نے بھی ان کو چھوڑ دیا تو کچھ شک نہیں کہ منافق الفُسِقُونَ ے یعنی اللہ کی راہ میں نہیں دیتے۔ہی بدکار فاسق ہیں۔دل از مهر محمد ریش دارم رقابت با خدائے خوبیش دارم (بقیہ حاشیہ) ہیں۔چنانچہ کوئی کہتے ہیں۔اور عرفی کا قول وغیرہ۔تقدیر بیک ناقہ نشانید دو محمل سلمائے حدوث تو ولیلائے قدم را آیت نمبر ۶۷ - يَأْمُرُونَ بِالْمُنْكَرِ۔منافق الٹی چال چلتے ہیں۔مومنوں کو ان کاموں سے بچنے کے لئے سنایا گیا۔اسی طرح مغضوب کے حالات سنا کر تمام قرآن مجید میں محفوظ رہنے کے لئے تاکید کی گئی ہے اور مقصود تلاوت اور حفظ قرآن سے یہی ہے کہ منافق اور مغضوب کے حالات سے عملاً ضرورضرور بچیں۔فَنَسِيَهُمْ - نسیان بمعنی فراموشی اور اس کے معنی لغت میں ترک بھی ہیں کیونکہ نسیان شان وصفاتِ الہی کے خلاف ہے۔