اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 407 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 407

واعلموا ١٠ ۴۰۷ التوبة ؟ وَالْعَمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي دینی کارکنوں ہی کا حق ہے اور دلوں کو دین کی الرِّقَابِ وَالْغَرِمِينَ وَفِي سَبِيْلِ اللَّهِ طرف مائل کرنے میں اور غلام مومنوں کے آزاد کرانے اور جرمانوں (اور قرضوں) کی وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللهِ وَاللهُ ادائی میں اور اللہ کی راہ میں اور مسافروں کولے یہ اللہ کا ٹھہرایا ہوا ہے اور اللہ بڑا جاننے والا عَلِيمٌ حَكِيم بڑا حکمت والا ہے۔لے صدقات بے سامانوں وغیرہ کے دینے ہی میں موقوف ہے۔(بقیہ حاشیہ) غریب ہوں تا کہ پوپوں اور برہمنوں کی طرح موسیٰ کی قوم لاوی کی مانند مفت خور نہ ہو جائیں اور لوگ ان کی پوجا نہ کرنے لگیں اور خود غرضی دین کے خلوص کو نہ کھو دے۔احکام الصدقات (۱) زکوۃ یہ سوائے ان لوگوں کے کسی کے لئے جائز نہیں إِنَّمَا الصَّدَقْتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسْكِينِ وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَ الْعَرِمِينَ وَ فِي سَبِيْلِ اللهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ وَاللهُ عَلِيْمٌ حَكِيمُ ( ترجمہ ) زکوۃ جو حق ہے مفلسوں کا اور محتاجوں کا اور اس کام پر جانے والوں کا اور جن کا دل پر چانا ہے اور گردن چھڑانے اور جو تاوان بھریں اور اللہ کی راہ میں اور راہ کے مسافر کو ٹھہرا دیا ہوا ہے اللہ کا ، اور اللہ سب جانتا ہے حکمت والا ( ترجمہ شاہ عبد القادر صاحب) (۲) صدقہ بھی مثل زکوۃ کے سادات کے لئے لینے یا کھانے سے روکا گیا ہے۔عَنْ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ خَالِدُ بْنُ سَعِيدُ بْنُ الْعَاصِ بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِبَقَرَةٍ فَقَالَتْ إِنَّا إِلُ مُحَمَّدٍ لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ (ش) کنز العمال جلد ۳ صفحه ۳۱۹ حدیث نمبر ۵۲۸۷ (کنز العمال مطبوعه دائرة المعارف النظاميه۔الواقعة في حيدر آباد سنة ۱۳۱۲ھ )۔حضرت عائشہ کی خدمت میں ایک گائے کا حصہ بھیجا گیا آپ نے فرمایا ہم آل محمد ہیں۔ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے (۳) ہاں سادات کے لئے ان کا ذاتی صدقہ کھانا جائز ہے جیسا کہ اس صلى الله حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔عَنْ طَاؤُؤُسٍ قَالَ أَخْبَرَنِى حَجَرُ الْمَدَرِى اَنَّ فِي صَدَقَةِ النَّبِيِّ لا يَأْكُلُ مِنْهَا اَهْلُهَا بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ الْمُنْكَرِ (ش) وسنده صحيح (كنز العمال كتاب الزكواة قسم الافعال فصل في المصرف حدیث نمبر ۵۲۹۴)۔طاؤس سے روایت ہے کہ حجر المدری نے مجھے خبر دی کہ آنحضرت علی کے صدقہ سے آپ کے گھر والے کھاتے تھے بلا کراہت (۴) کسی کے پاس صدقہ آیا ہو اور وہ کسی کے ہاں بھیج دے خواہ سادات خواہ غیر کے وہ تحفہ ہوگا یعنی بھیجنے والے کے لئے صدقہ اور جس کے لئے اس نے بھیجا ہے وہ تحفہ ہو جاتا ہے۔لِلْفُقَرَاء فقراء کے اقسام ہیں۔اَلمَسْكِينِ۔مساکین کے اقسام ہیں۔اَلْعُمِلِينَ عَلَيْهَا۔زکوۃ اور چندوں کا مال جمع کرنے والے۔فی سَبِیلِ اللہ۔یعنی مجاہدین کی خدمت گزاری میں جو شمشیر یا قلم وغیرہ سے کام کرتے ہوں۔وَابْنِ السَّبِيلِ۔مسافر۔ان ہی کو صدقات کا دینا حصر ہے۔