اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 33 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 33

۳۳ البقرة ٢ مِنْهُمْ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۔ہی رہا بلکہ ان میں کے اکثر لوگ مومن ہی نہیں۔وَلَمَّا جَاءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْ عِنْدِ اللهِ ۱۰۲۔( یہ کوئی نئی عادت نہیں بلکہ ) جب اُن مُصَدِقَ لِمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِيقٌ مِّنَ الَّذِيْنَ کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسول آیا سچا بتانے والا اُس کلام کا جو اُن کے پاس ہے تو أوتُوا الْكِتَبَ كِتُبَ اللهِ وَرَآءَ انہیں کتاب والوں میں سے ایک فریق نے ظُهُورِهِمْ كَأَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) کتاب اللہ کو اپنی پیٹھ کے پیچھے ڈال دیا اور (یوں منہ پھیر بیٹھے ) گویا وہ کتاب کو جانتے ہی نہیں۔وَاتَّبَعُوا مَا تَتْلُوا الشَّيْطِيْنُ عَلَى مُلْكِ ۱۰۳۔اور کتاب ( الہی کو چھوڑ کر ) اس کے پیچھے پڑ سُلَيْمَن وَمَا كَفَرَ سُلَيْمَنُ وَلَكِنَّ گئے جو شیاطین بدکارسلیمان کی حکومت میں پڑھتے رہتے تھے اور سلیمان تو حق چھپانے والی باتوں الشَّيْطِيْنَ كَفَرُوا يُعَلِّمُونَ النَّاسَ سے کوئی تعلق نہ رکھتا تھا لیکن شریر ہلاک کرنے السِّحْرَ وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ والوں ہی نے کفر کیا جو لوگوں کو دل رُبا یا گم راہ کرنے والی باتیں سکھاتے تھے اور اتباع کیا اُس آیت نمبر ١٠٣ - وَمَا كَفَرَ سُلَيْمن - کل عیسائی اور بعض یہود سلیمان علیہ السلام کو نعوذ باللہ کافر سمجھتے تھے وجہ یہ تھی کہ علوم حقہ سے بے خبری اور گندے علوم کا زور اور بڑے بڑے دلچسپ نظارے جمع ہو گئے تھے۔بابلی سلطنت جس میں کثیر التعداد آدمی بستے تھے اور وہ ایسے علوم وفنون میں منہمک تھے جنہوں نے قلوب کو واہیہ اور لا ہیہ بنا دیا تھا۔یعنی ناول و ناٹک اور تماشے اور شعبدات وغیرہ ان میں کثرت سے پھیل گئے تھے اور رات دن وہ اسی میں لگے رہتے تھے اور متقی اور پر ہیز گاروں کے منکر اور دشمن تھے۔السحر - دل فریب باتیں۔قصے اور وہ امور جو خدا سے دور کر دیں فریمیسٹوں کے لاج کا نام جادوگر اب تک مشہور ہے۔وَمَا أُنْزِلَ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبَابِلَ۔یہ صورت ما موصوله و ما ثبت موافق ترجمه متن ہاروت ماروت فرشتوں کے نام جن کے ذریعہ یہودیوں نے علم حاصل کر کے دشمنوں پر فتح پائی تھی اب ارشاد ہوا بمقابلہ سید المرسلین یہ خفیہ کمیٹی بحکم الہی کا میاب نہیں ہو سکتی۔هَارُوتَ وَمَارُوتَ۔بنی اسرائیل جب مصر کی طرف گئے تو پہلے پہل ان کو یوسف علیہ السلام کی وجہ سے آرام ملا پھر جب شرارت پر کمر باندھی تو فراعنہ کی نظر میں بہت ذلیل ہوئے مگر خدا نے رحم کیا اور موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے ان کو نجات ملی یہاں تک کہ وہ فاتح ہو گئے اور اپنے کو نَحْنُ ابْنَوا الله وَاحِباؤُهُ (المائدة : ۱۹) سمجھنے لگے (وجودی بن گئے ) جب ان کی حالت تبدیل