اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 401 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 401

واعلموا ١٠ ۴۰۱ التوبة ؟ بِهِ الَّذِيْنَ كَفَرُوا يُحِلُّونَهُ عَامًا ہے یہ زیادتی ہے جو کفر کے وقت ہوئی اور اس ويُحَرِّمُونَهُ عَامًا لِّيُوَاطِئُوا عِدَّةَ مَا سے گم راہ کئے گئے ہیں جو بے ایمان ہیں حلال کرتے ہیں تعظیم کے مہینے ایک سال اور حرام حَرَّمَ اللهُ فَيُحِلُّوا مَا حَرَّمَ اللهُ زُین کر لیتے ہیں ایک سال تا کہ برابر کر لیں گنتی جو لَهُمْ سُوءُ أَعْمَالِهِمْ وَاللهُ لَا يَهْدِی اللہ نے حرام کی ہے تو وہ حلال کر لیں اللہ کے حرام کئے ہوئے کو۔پسند آ گئی ہیں ان کو ان کی القوم الكفرين ن بدکرداریاں اور جس راہ پر کافر چل رہے ہیں وہ اللہ کی بتائی ہوئی راہ نہیں۔ہے۔يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ ۳۸۔اے ایماندارو! تمہیں کیا ہو گیا جب تم سے انْفِرُوا فِى سَبِيْلِ اللهِ انَّا قَلْتُمْ إِلَى کہا جاتا ہے کہ چلو اللہ کی راہ میں تم گرے پڑتے ہو زمین پر بوجھ سے، کیا تم راضی ہو گئے الْأَرْضِ أَرَضِيْتُم بِالْحَيُوةِ الدُّنْيَا (بقیہ حاشیہ ) مسلمانوں کا حساب بھی چاند سے ہے۔چاند اور سورج کے حساب میں باہم اختلاف ہے۔چاند کا سال ۳۵۵ دن کا ہے اور سورج کا سال ۳۶۵ دن کا۔۳۶ سال میں ایک سال کا فرق پڑ جاتا ہے اس واسطے جس کی عمر (۵۰) سال کی ہوگی وہ گرمیوں سردیوں کا رمضان دیکھ لے گا۔جو عرب رِحْلَةَ الشَّتَاءِ وَالصَّيْف کی حالت رکھتے تھے اور ان کا تعلق غیر قوموں سے تھا وہ سورج کا حساب رکھتے تھے اور دوسرے عرب چاند کا۔اب سال میں دس دن کا فرق پڑنے لگا۔پہلے عربوں نے سورج کا حساب رکھا تا کہ برسات اور موسموں کا حال ٹھیک معلوم رہے۔بعض ایسا کرتے کہ محرم کو ا۴ دن بنا لیتے پھر صفر شروع کرتے۔سود کھانے والے ہندو بھی چاند سے حساب رکھتے ہیں اور دوسرے امور میں سورج سے جس کو سدی بدی کہتے ہیں نو روز میں حساب کو ملا لیتے ہیں۔ہلالی میں تنخواہ لینے والوں اور عبادت کرنے والوں کو فائدہ ہے۔آیت نمبر ۳۸ - إِذَا قِيلَ لَكُمُ۔امتحان کے طور پر حکم ہے اور امتحان تین قسم کا ہوتا ہے (۱) ذلیل کرنے کے لئے جي كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف: ۱۶۴) (۲) اظہار کمالات کے لئے وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرهِم رَبَّهُ بِكَلِمَتِ (البقرة : ۱۲۵) (۳) پہلی غلطیوں کو چھڑوانے کے لئے جے بَلَوْنَهُمْ بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيَّاتِ (الاعراف: ۱۲۹) یہاں تیسری قسم امتحان کی مراد ہے جس میں تحریص و ترغیب کی گئی ہے۔اِنا قَلْتُمْ۔اس میں جنگ تبوک کی طرف اشارہ ہے جو ہجرت کے نویں سال واقع ہوئی اس کو غَزْوَةُ الْعُسُر اور جَيْشُ الْعُسْرَۃ اور غَزْوَهِ فَاضِحَه بھی کہتے ہیں۔