اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 397
واعلموا ۱۰ ۳۹۷ التوبة ؟ النَّصْرَى المَسِيحُ ابْنُ اللهِ ذَلِكَ قَوْلُهُمْ نصاری نے کہا مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ تو صرف ان بِأَفْوَاهِهِمْ ۚ يُضَاهِوْنَ قَوْلَ الَّذِينَ کے منہ کی باتیں ہیں یہ تو دیکھا دیکھی اور ریس ہے کافروں کے کہنے کی جو پہلے ہو چکے ہیں۔كَفَرُوا مِنْ قَبْلُ قَتَلَهُمُ اللهُ أَنى اللہ اُن کو غارت کرے اور اُن پر لعنت کرے وہ کہاں پھرے جا رہے ہیں دھوکہ سے۔يُؤْفَكُونَ اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا ۳۱ ٹھہرا لیا ہے انہوں نے اپنے عالموں اور (بقیہ حاشیہ ) ابن الله۔اور اس کے مقابل میں دوسری جگہ قرآن میں یہود کا قول نَحْنُ ابْنَوا اللهِ وَاحِبَّاؤُهُ (المائدة : 19 )۔آیا ہے جس میں علمی مذاق کے موافق واو تفسیری ہو کر ابن اور ابناء کی تفسیر معلوم ہوتی ہے یعنی صرف پیارے اور مقرب اور مُحِب إِله ابناء کا ترجمہ ہے۔قَوْلَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا۔کنعان اور یونان کی قومیں اپنے دیوتاؤں کو خدا مانتے تھے اور اپنے بزرگوں کو خدا کا خزانہ کہتے تھے۔مِنْ قَبْلُ - عام کتب یہاں تک کہ مہا بھارت کے پڑھنے سے ہندوؤں کے خیالات معلوم ہوں گے اور ہندوؤں کی تاریخ بھی پڑھو۔آیت نمبر ۳۱ - اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللہ۔عدی بن حاتم جب مسلمان ہونے کے لئے حضور علیہ السلام کے دربار میں پہنچے انہوں نے سوال کیا کہ مسیح ابن مریم کو تو ہم نے معبود بنایا لیکن قرآن نے ہمارے ذمہ احبار اور رہبان کو بھی لگایا ہے یہ کس طرح پر ہے ؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ تم اپنے علماء کے قول کو حجت قطعیہ جانتے ہو تمہارے ہاں حُرمت اور حلت کا فیصلہ تمہارے علماء کا قول ہے۔اصل شریعت کو تم نہیں دیکھتے۔اصل کتاب سے مطابقت کی ضرورت کو نہیں سمجھتے تمہارے علماء اور مشائخ ہی تمہارے شارع ہیں۔یہ حدیث متفق علیہ ہے۔جیسا کہ نصاری کے ہاں رومن کیتھولک پوپ جو ان کا مشائخ ہوتا ہے اس کے قول کو حجت مانتے ہیں اور پروٹسٹنٹ اپنے کلیسیا کے قانون پر جو کہ بشپ لوگ بناتے ہیں چلتے ہیں۔اور پرستش کے اصول۔تصرف۔علم اور امید و بیم ہیں۔مشرک اور عوام جاہل ہر فرقہ کے ماسوا اللہ کو پہلے علم سمجھتے ہیں پھر متصرف۔نتیجے میں امید وبیم پیدا کرتے ہیں جس کا تعلق رب سے ہے۔انسان مخلوق ہے یہ تعلقات وہمی طور پر جس کی کچھ اصل نہیں پیدا کر لیتے ہیں اسی کا نام شرک ہے۔اِتَّخَذُوا والی ایک عبرتناک تمثیلی پیشگوئی بھی ہے جس کا ظہور مسلمانوں کے لئے ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ علماء اور مشائخ وفقہاء، مفسرین ومحدثین کے اقوال کو قرآنی آیات کے مقابل پر زیادہ فیصلہ کنندہ اور مبین مانتے ہیں۔