اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 396
واعلموا ١٠ ۳۹۶ التوبة ؟ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللهُ نہیں مانتے اور نہ آخرت کے دن کو جو چیزیں اللہ اور اس کے رسول نے حرام کر دی ہیں، اس کو وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِيْنُوْنَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ حرام نہیں سمجھتے اور سچے دین کا طریقہ اختیار نہیں الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَبَ حَتَّى يُعْطُوا کرتے اہل کتاب میں سے جب تک کہ وہ جزیہ الْجِزْيَةَ عَنْ يَدٍ وَهُمْ طَخِرُونَ چ دیں اپنے ہاتھ سے اور وہ بے قدر ذلیل ہوں۔وَقَالَتِ الْيَهُودُ عُزَيْرُ ابْنُ اللهِ وَقَالَتِ ۳۰۔اور یہود نے کہا عُزیر اللہ کا بیٹا ہے اور (بقیہ حاشیہ ) به جبر مسلمان بنانے کے لئے ہے بلکہ اس سے مقصد یہ ہے کہ پہلے دشمن آنحضرت کے اہل مکہ اور اس کے معاونین مشرکین میں سے تھے جب ان کا فیصلہ ہو چکا یعنی مکہ والے اور اس کے مددگار مغلوب اور مفتوح ہو چکے تو اب دوسرے دشمن جو اہل کتاب سے ہیں ان کا مقابلہ ہونا چاہیے ان کو بھی اگر وہ جزیہ دے دیں تو چھوڑ دیں گے۔مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكتب۔مشرکین کے بعد اہل کتاب سے تخاطب ہے جنہوں نے من گھڑت باتوں کی پیروی کی ہے۔دینِ حق اہلِ حق سے نہیں لیا۔الْجِزْيَةَ - جزیہ کے معنی ہیں فدیہ جو بدلہ میں دیا جائے چونکہ وہ قوم جو بر سر حکومت ہوتی ہے۔وہ اپنی رعایا کے مال اور جان اور عزت اور عصمت اور عقل اور دین اور نسب کی محافظ ہوتی ہے۔اس لئے اس کے بدلہ میں پولیس اور افواج یعنی سول ملٹری دونوں کے اخراجات کے لئے اُن پر ٹیکس لگایا جاتا ہے۔کافر دولت مند سے چار دینار، متوسط سے دو اور فقیر سے ایک۔آیت نمبر ۳۰۔اَليَهُودُ۔وہ یہود کی قوم مھرہ میں تھی جو عُزیر کو ابن اللہ کہتی تھی چوتھی صدی ہجری تک رہی پھر بر باد ہوگئی (قسطلانی)۔یہاں آ ليَهُودُ کا لفظ ہے بنی اسرائیل کا نہیں جو یہودہ بن یعقوب کی اولاد ہیں دنیا کے مذہب کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر ایک نے کسی نہ کسی بزرگ و خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے۔کوئی مذہب ہو بدوں کسی خوبی کے نہیں چل سکتا ہے۔پہلے متبع بڑے مخلص ہوتے ہیں کیونکہ وہ دنیا وی بڑی بڑی تکلیفیں اٹھاتے ہیں خوبی نہ ہو تو وہ کیوں تکلیف اٹھائیں۔دوسرا وقت مذہب کی کامیابی کا آتا ہے اور بادشاہی آجاتی ہے۔اس وقت دنیا دار بدمعاش آ کر شریک ہو جاتے ہیں انہیں کے ساتھ قصہ کہانیاں رسوم و بد عادات وغیرہ امور آتے ہیں اور ترقی کا زمانہ اندھا دھند ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندر کچھ اعتراض اور شبہ پیدا ہو جاتے ہیں۔پھر تیسرا زمانہ آ جاتا ہے جس میں سلطنت چھن جاتی ہے۔دشمنوں کو قوت ملتی ہے وہ اعتراض کرتے ہیں اس وقت بیہودہ روایات کو جھوٹا کہنا پڑتا ہے۔پھر احادیث پر جرح کی جاتی ہے یہاں تک کہ اصلی کتاب جو بچی ہو وہ رہ جائے۔مسلمانوں پر یہ وقت چھٹی صدی میں آچکا ہے۔