اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 394
واعلموا ۱۰ ۳۹۴ التوبة سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللهُ بِأَمْرِهِ نیک کوشش کرنے سے (اگر ایسا ہے ) تو اب تم وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَسِقِيْنَ انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنے حکم کے ساتھ آ جائے لے اور جس راہ پر بدکار طالب دنیا چلتے ہیں وہ اللہ کی بتائی ہوئی نہیں ہے۔لَقَدْ نَصَرَ كُمُ اللهُ فِي مَوَاطِنَ كَثِيرَةٍ -۲۵۔بے شک اللہ ہی نے تم کو بہت جگہ مدددی وَيَوْمَ حُنَيْنٍ إِذْ أَعْجَبْتُكُمْ كَثُرَتُكُمْ تھی اور اللہ ہی نے مددی تھی حنین کے دن جب تم کو تعجب میں ڈال دیا تھا تمہاری کثرت نے فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَيْئًا وَ ضَاقَتْ عَلَيْكُمُ پھر وہ کچھ کام نہ آئی تمہارے اور تم پر تنگ ہوگئی الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَيْتُم زمین باوجود اپنی کشادگی کے پھر تم پلٹے پیچھے۔مُّدْبِرِينَ ثُمَّ انْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَى رَسُولِهِ ۲۶۔پھر اللہ نے اتاری اپنی طرف سے تسکین ے یعنی تمہارا فیصلہ کر دے اور اپنا غلبہ ثابت کر دے۔آیت نمبر ۲۵۔حُنین۔ایک وادی ہے ہوازن قوم کی یعنی جنگل ہے طائف اور مکہ کے درمیان۔ہزار مسلمان تھے کل چار آدمی آنحضرت کے پاس رہ گئے تھے۔إِذْ أَعْجَبكُھ۔ہجرت کے آٹھویں سال جب مکہ فتح ہو چکا تو آنحضرت ﷺ بارہ ہزار مسلمانوں کے ساتھ جن میں دو ہزار نو مسلم تھے حنین کے طرف چلے جو مکہ اور طائف کے فیما بین ہے۔حنین میں ہوازن اور ثقیف دو جنگجو قبیلے تھے انہوں نے چار دستے فوج جمع کر کے حضرت کے راستے میں پہاڑیوں کی تنگ گھاٹیوں میں تیر اندازوں کو بٹھا دیا۔نومسلم تیروں کی تاب نہ لا سکے اور بھاگ گئے اور کئی مہاجر و انصار بھی۔حضرت کے ساتھ صرف عباس اور ابوسفیان بن حارث اور کئی آدمی ٹھہرے رہے۔حضرت نے یک مشتِ خاک اٹھا کر مخالفوں کی طرف پھینکی کہ وہ سب کے سب آنکھیں ملتے رہ گئے اور حضرت عباس نے انصار و مہاجر کو پکارا۔ملائکہ آسمان سے ابلق گھوڑوں پر دکھے اور مسلمانوں کو فتح ہوئی۔اوائل میں کثرت تعداد کے تکبر کی وجہ سے ان کے قدم پھلے آخر خدا نے بتا دیا کہ ہم ایک مُشتِ خاک سے فتح دے سکتے ہیں یعنی فتح ہمارے فضل پر موقوف ہے نہ تمہاری کثرت فوج پر۔اس لئے ایک امام فرماتے ہیں کہ اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوذُبِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ ہر ایماندار کو ہر وقت و خصوصاً نماز میں یہی معنی کا لحاظ رکھ کے پڑھتے رہنا واجب ہے۔