اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 388 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 388

واعلموا ۱۰ ۳۸۸ التوبة ؟ سُوْرَةُ التَّوْبَةِ مَدَنِيَّةٌ وَهِيَ مِائَةٌ وَتِسْعٌ وَعِشْرُونَ آيَةً وَّ سِتَّةَ عَشَرَ رُكُوعًا بَرَاءَةٌ مِنَ اللهِ وَرَسُولِةٍ إِلَى الَّذِيْنَ ا۔اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے صاف جواب ہے ان مشرکوں کو جن سے تم نے صلح عُهَدْتُمْ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ کی تھی۔فَسِيحُوا فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ ۲۔تو اے مشرکو از مین میں چلو پھر و چار مہینے اور وَاعْلَمُوا أَنَّكُمُ غَيْرُ مُعْجِزِى اللهِ جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز نہ کر سکو گے اور اللہ حق وَانَّ اللَّهَ مُخْرِى الْكَفِرِيْنَ چھپانے والوں کو رسوا کرنے والا ہے۔تمہید۔سورہ تو بہ میں اعلان جنگ ہے یہ کوئی علیحدہ سورۃ نہیں بلکہ بقیہ سورہ انفال کا ہے۔آٹھویں سال ہجرت کے جب مکہ فتح ہوا تو بہت سی قومیں مسلمان ہو گئیں۔اور نویں سال ہجرت میں جب آنحضرت شام کی طرف غزوہ تبوک میں تشریف لے گئے تو قوموں نے حاسدانہ رنگ اختیار کر کے مخالفانہ افواہیں اڑائیں اور عہد توڑ دیا اور موقع پا کر مسلمانوں کو ایذا رسانی کی تجویزیں کرنے لگے۔اسی سال حضرت نے حاجیوں کا قافلہ سالار ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کیا اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے ناقہ پر سوار کر کے بھیجا کہ وہاں مجمع عام میں یہ آیتیں لوگوں کو سنا ویں یعنی سورہ تو بہ۔تو ابو بکر رضی اللہ عنہ نے احکام حج تعلیم کئے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے يَوْمُ النَّحْرِ کو جَمْرَةُ العُقْبَی کے پاس کھڑے ہو کر لوگوں کو یہ سورۃ سنائی۔چونکہ یہ حصہ الگ سنایا گیا تھا اس لئے علیحدہ ہی رہا اور کہ دیا کہ آئندہ سے کوئی مشرک مکہ میں نہ آئے اور نہ نگا طواف کرے۔جنت میں اہلِ ایمان کے سوائے کوئی نہ جائے گا۔بہت اقرار پورے کئے گئے۔لوگوں نے کہا اے علی ! تم اپنے بھائی سے کہہ دینا کہ ہم نے خود ہی عہد توڑ دیئے ہیں اب تلوار ہے یا تیر۔غرض چار مہینے کی مہلت ہے یہی چار مہینے مہلت والے ہیں جس میں جہاد کی ممانعت فرمائی گئی ہے یعنی مخالفوں کے لئے رجب ، ذِي قَعْدَهِ ، ذِي الْحَجَّهِ ، مُحَرَّم - آیت نمبر ۲۔مُخْرِی الْكَفِرِینَ۔جنگ دفاعی ہے اکیس برس تک صدمات عظیم اٹھانے کے بعد خدا کی طرف سے جہاد کا حکم ہوا اور وہ بھی عذاب کے رنگ میں۔یہ کفار کے نقض عہد کا نتیجہ تھا جو بہت ہی بُرا فعل ہے۔چونکہ جب تک کفار کی طرف سے ابتدا نہ ہو تب تک اسلام جہاد کا حکم نہیں دیتا۔حضور سرور کائنات نے ارشاد فرمایا اتُرُكُوا لِتَرْكِ مَا تَرَكُوكُمُ اور قَاتِلُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُوْنَكُمْ (البقرہ: ۱۹۱) وغیرہ آیات بھی۔اکیس برس سہو کا تب ہے۔درست بارہ برس ہے۔(ناشر)