اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 385
واعلموا ١٠ ۳۸۵ الانفال ۸ يَغْلِبُوا الْفَيْنِ بِإِذْنِ اللهِ وَاللهُ مَعَ سے دو ہزار پر غالب آئیں گے اور اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔الصبِرِينَ مَا كَانَ لِنَبِيَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى ۶۸۔یہ تو کسی نبی کی شان ہی نہیں کہ وہ کسی کو يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ قیدی بنالے جب تک کہ دنیا میں کوئی اس سے مقابلہ نہ کرے اور جنگ نہ چھڑے۔تم کو دنیا ط الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَالله کے مال کی تلاش ہے اور اللہ تو آخرت کو پسند فرماتا ہے اور وہ عزیز وحکیم ہے۔عَزِيزٌ حَكِيمٌ) لَوْلَا كِتب مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيْمَا ۲۹۔اگر جناب الہی کا حکم پہلے سے نہ ہوتا تو ضرور تم پر عذاب عظیم آتا اس کے بدلے جولیا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ تم نے مال و اسباب۔(بقیہ حاشیہ) وَاللهُ مَعَ الصَّبِرِینَ۔صوفیوں میں ایک بحث ہے کہ تفویض اعلی ہے یا توكيل بعض کہتے ہیں کہ تفویض اعلیٰ ہے کیونکہ اس میں سب کچھ سپر د کر دیا جاتا ہے۔آیت نمبر ۶۸۔حَتَّى يُشْخِنَ فِي الْأَرْضِ۔جب تک دنیا میں کوئی اس سے مقابلہ نہ کرے اور جنگ نہ چھڑے ( اور اگر بغیر جنگ کے ایسا کیا جاوے تو سمجھا جاوے گا کہ ) تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا کیا تم دنیا کے طالب ہو؟ نہیں تم اللہ والے ہو۔آیت نمبر ۶۹ - لَوْلَا كِتب مِنَ اللهِ سَبَقَ - ایک گروہ کو صحابہ میں سے آنحضرت نے ساحل پر بھیجا اور یہ واقعہ جنگ بدر سے پہلے کا ہے۔انہوں نے اہلِ مکہ کا ایک قافلہ جاتا ہوا دیکھا یہ اُن پر ٹوٹ پڑے۔مال چھینا اور ایک کو قتل کیا اور بعض کو پکڑ کر مدینہ میں لے آئے۔منشاء یہ تھا کہ مال لے لیویں اور یہ قیدی جرمانہ لے کر چھوڑے جائیں۔نبی کریم علیہ نے اس بات کو نا پسند کیا۔ان کو چھوڑ دیا۔مال واپس کر دیا۔مقتول کی دیت دے دی۔شیروں کو شکار کے چھٹ جانے کا غم ہوا اس پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عتاب آیا کہ بغیر اس کے (کہ) کسی قوم سے جنگ ہو اور کشت وخون کے بعد باقی فوج کو پکڑا جائے یوں ہی راہ چلتوں کو پکڑنا جائز نہیں اگر یہ حکم پہلے نہ ہو چکتا کہ وَمَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَاَنْتَ فِيْهِمْ (الانفال: ۳۴) تو اس گروہ کو سزا ہوتی۔اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظیم - اسیر بغیر جنگ عظیم کے بغیر فیصلہ بین کے شرارت وغلبہ سے بنا لینا کسی طرح جائز نہیں موجب عذاب ہے۔