اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 383
واعلموا ١٠ ۳۸۳ الانفال ۸ تَعْلَمُوْنَهُمْ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ وَمَا تُنْفِقُوا جانتے ہاں ! اللہ ان کو جانتا ہے اور تم ہر ایک قسم مِنْ شَيْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يُوَفَّ إِلَيْكُمْ وَانْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ ) سے جو کچھ خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ تم کو پورا ملے گا اور تم پر کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔وَإِنْ جَنَحُوْ الِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ ۶۲۔اور اگر کوئی جھکے صلح کے لئے تو اس سے صلح کرنا عَلَى اللهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ چاہئے اور اللہ ہی پر تو کل کرو۔بے شک وہ بڑا دعاؤں کا سننے والا بڑا بھیدوں کا جاننے والا ہے۔وَإِنْ يُرِيدُوا اَنْ تَخْدَعُوكَ فَإِنَّ ۶۳۔اور اگر وہ چاہیں کہ تجھے ضروریات میں مدد نہ دیں تو اللہ ہی تیرے لئے بس ہے وہی اللہ جس حَسْبَكَ اللهُ هُوَ الَّذِي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ نے تجھ کو اپنی مدد سے قوت دی اور مومنوں سے۔وَبِالْمُؤْمِنِينَ وَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ لَوْ انْفَقْتَ مَا فِي ۶۴۔اور دل میں الفت ڈالی مومنوں کے اور الْأَرْضِ جَمِيْعًا مَّا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوْبِهِمْ اگر تو جو کچھ زمین میں ہے دنیا کے سب مالوں کو جمع کرتا اور سب خرچ کر دیتا جب بھی ایسی آیت نمبر ۶۲ - وَ تَوَكَّلْ عَلَى الله۔اس میں حقیقت تو گل کی بیان فرمائی ہے یعنی جس قدر جائز کوششیں ہیں نیکی کے ساتھ کی جائیں اور نیک تدابیر عمل میں لائی جائیں اور اگر ظاہراً نا کامی اور مایوسی کے آثار دکھیں یا دنیا کے لوگ مخالفت کریں تو خدا ہی پر بھروسہ رکھو یعنی کا ہلی اور غفلت اور بے تدبیری اور بے عقلی اور ہاتھ پر ہاتھ رکھے رہنے کا نام تو کل نہیں ہے جیسا کہ بد فہم اور سُست و کاہل بیکاری کی حمایت میں کہا کرتے ہیں کہ ہمارا تو خدا ہی پر بھروسہ ہے اور ہماری تقدیر میں یہی لکھا ہے کہ اپنی سستی اور کا بلی کا الزام خدا ہی پر لگایا کریں اور اس گستاخی اور کفر بکنے سے کچھ خوف نہ کریں اور لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيدِ کی کچھ پرواہ نہ کریں۔آیت نمبر ۶۳ - يَخدَعُوكَ - مالی امداد سے ہاتھ اٹھانے کو بھی خدع کہتے ہیں۔حَسْبَكَ الله - یعنی ظاہری مخالفت و نا کامی سے جو نہ ڈرے اور نیک اعمال تو کل بخدا کرتا جائے تو اس کے لئے ارشاد ہے وَمَنْ يَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: ۴) اور حَسْبُكَ الله وغیرہ آیات تو کل۔آیت نمبر ۶۴ - اَلَّفَ بَيْنَهُمْ۔اس سے معلوم ہوا کہ جس قدر صحابہ ہیں وہ با ہم کمال محبت رکھتے ہیں۔شیعہ۔قدرصحابہ جھوٹے ہیں جو صحابہ کو باہم دشمن بتاتے ہیں کیونکہ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا ( النِّسَاءِ: ۱۲۳) -