اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 378
واعلموا ١٠ ۳۷۸ الانفال ۸ وَلَوْ أَرْكَهُمْ كَثِيرًا ثَفَشِلْتُمْ میں یا تجھے ( خواب میں ) تھوڑے سے اور اگر وہ تجھ کو بہت دکھاتا اُن کو تو تم ضرور پھسل جاتے وَلَتَنَازَعْتُمُ فِي الْأَمْرِ وَلَكِنَّ اللهَ اور جھگڑا کرتے کام میں لیکن اللہ نے بچا لیا۔سَلَّمَ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ کچھ شک نہیں کہ وہ بخوبی جانتا ہے دلوں کی باتیں یا صدر مقام یعنی دماغ کا حال۔وَإِذْ يُرِيكُمُوْهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي ۴۵۔اور جب تم کو دکھائے کا فر اللہ نے جب تم جنگ کر رہے تھے تمہاری آنکھوں میں تھوڑے أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِى سے اور تم کو تھوڑے دکھایا ان کی آنکھوں میں أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِيَ اللهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً تا کہ پورا کرے اللہ اس کام کو جس کو وہ اپنے وَإِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُة بچے علم میں کر چکا تھا اور اللہ ہی کی طرف سب کام پھرتے ہیں۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةٌ ۴۶ - اے ایماندارو! جب تم لڑو کسی فوج سے تو فَاثْبُتُوا وَاذْكُرُوا اللهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ ثابت قدم رہو اور اللہ کو بہت یاد کرو تا کہ تم نہال و با مراد ہو جاؤ۔تُفْلِحُونَ آیت نمبر ۴۴ - مَنَامِكَ - اى فِى عَيْنِكَ وَبَصَرِكَ وَنَوْمِكَ - بعض چیزیں بڑھا گھٹا کر دکھلائی جاتی ہیں اس میں مصلحتِ الہی ہوتی ہے۔مَنَام آنکھ کو بھی کہتے ہیں۔کیونکہ اصل اس کے معنی ہیں نیند کی جگہ۔تو نیند آنکھوں میں ہی آیا کرتی ہے اور رویا کو بھی کہتے ہیں۔تمہاری آنکھوں میں تھوڑے دکھے کچھ ٹیلے پر تھے کچھ نیچے۔لَفَشِلْتُمْ - فَشَلُ کا بگڑا ہوا لفظ اردو میں پھسل ہے اور اس پانی کو بھی کہتے ہیں جو رفت میں نکل جاتا ہے۔آیت نمبر ۴۶۔وَاذْكُرُوا۔ذکر کے معنی دعا، یا محبوب ، تذکرہ، بہ نیت عبادت کچھ پڑھنا۔اگر دینی مقابلہ اور مباحثہ ہو تو پہلے بہت عاجزی سے دعائیں کرو کہ کامیاب ہو گے۔ابوھریرہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے خیال کے نزدیک ہوں جہاں وہ یاد کرتا ہے میں وہیں موجود ہو جاتا ہوں۔اگر وہ جی میں یاد کرتا ہے میں بھی اسے جی میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجمع میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو اس سے بھی بہتر مجمع میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت آتا ہے تو میں اس کی طرف گز بھر آتا ہوں اور اگر وہ گز بھر آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کے لمبان کے برابر آتا ہوں اور اگر وہ چلتا ہوا آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑتا ہوا آتا ہوں۔ترندی (سنن الترمذى كتاب الدعوات ، باب في حسن الظن بالله عز و جل