اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 377 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 377

واعلموا ١٠ ۳۷۷ الانفال ۸ كُنتُمْ امَنتُم بِاللهِ وَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا مانتے ہو اور اس کلام کو جو ہم نے اپنے بندے کے پر ا تا را ( دشمن کی ) کمر توڑ دینے یا شناخت و فیصلہ يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعُنِ وَاللَّهُ کے دن جس دن دو جماعتوں نے باہم جنگ کیا۔عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اور اللہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔إذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعَدْوَةِ ۴۳۔جب تم ادھر ورلے سرے پر تھے اور الْقُصْوَى وَالرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَوْ تمہارے دشمن ادھر پرلے سرے پر تھے (یعنی نالے کے) اور قافلہ اور سوار تم سے نیچے کی تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي الْمِيْعُدِ وَلكِنْ طرف تھے اور اگر تم آپس میں (وعدہ جنگ ليَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِيَهْلِكَ مقرر کرتے یا جگہ ٹھہراتے تو بھی ضرور اختلاف کرتے تم وعدہ میں (یعنی میدانِ جنگ کے تقرر مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ میں ) لیکن اللہ نے پورا کر دیا کام جو وہ کر چکا عَنْ بَيِّنَةٍ وَإِنَّ اللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ تھا۔وہی مرے جو مرتا ہے دلیل سے اور وہی زندہ رہے جو زندہ رہتا ہے دلیل سے۔بے شک اللہ بڑا سننے والا بڑا جاننے والا ہے۔إِذْ يُرِيْكَهُمُ اللهُ فِي مَنَامِكَ قَلِيلًا ۴۴۔جب اللہ نے دکھایا کافروں کو تیری آنکھ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر۔یعنی مناسب وقت اور موقعہ پر تمہیں بڑھایا۔(بقیہ حاشیہ ) جو اللہ اور رسول اور قرابتیوں ، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کا حصہ ہے۔رہے چار حصے اس کو اس طرح تقسیم کریں۔سوار کے دو۔پیدل کا ایک۔جائداد غیر منقولہ مستثنیٰ ہے اس کا امام کو اختیار ہے آنحضرت کے بعد آپ کا حصہ اسلامی ضرورتوں میں رہا جیسا کہ اللہ کا الْقُرْبی سے مراد رسول اللہ علیہ یا خلیفہ یا امام وقت کے قریبی رشتہ دار ہیں اور الله وَالرَّسُول میں اشاعت قرآن وحدیث شامل ہے۔يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَنِ۔یعنی بدر کے دن جس میں مسلمانوں کو عظیم الشان کامیابی ہوئی ملائکہ کا نزول دست پاک سرور کائنات کی مشتِ خاک کے نتائج نے ایک شناخت و تمیز اس دن قائم کی۔۱۷/ رمضان شریف روز جمعہ یوم الفرقان تھا۔آیت نمبر ۴۳ - إِنَّ اللهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ۔اللہ نے مظلوموں کی دعا سن لی اور وہ تمہاری کامیابی کو بخوبی جانتا تھا۔یعنی بدر کی لڑائی محض اللہ کی مدد سے ہوئی۔یہ لڑائی قصداً تم کرتے تو ایسا موقعہ نہیں ملتا۔بے شک غالب نے مغلوب پر حجت ملزمہ قائم کر دی۔