اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 372
قال الملا ۹ ۳۷۲ الانفال ۸ وَلَوْ كَثُرَتْ وَاَنَّ اللهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ في جماعت کچھ بھی اگرچہ بہت ہوں اور اللہ تو ایمان داروں ہی کے ساتھ ہے۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللهَ وَرَسُولَهُ ۲۱ اے ایماندارو! اللہ اور اُس کے رسول کی وَلَا تَوَلَّوْا عَنْهُ وَأَنْتُمْ تَسْمَعُوْنَ اطاعت کرو اور اطاعت سے نہ پھر وسن سنا کر۔وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِيْنَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ ۲۲۔اور نہ ہو جاؤ اُن کے جیسے جنہوں نے کہا کہ لَا يَسْمَعُونَ ہم سن چکے حالانکہ وہ کچھ بھی نہیں سنتے۔اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِ عِنْدَ اللهِ الصُّمُّ ۲۳۔بہت ہی شریر جاندار اللہ کے نزدیک وہی بہرے الْبُكْمُ الَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ گونگے ہیں ( جو دین کی ) کچھ بات نہیں سمجھتے۔وَلَوْ عَلِمَ اللهُ فِيْهِمْ خَيْرًا لَّاَسْمَعَهُمْ ۲۴۔اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی دیکھتا تو ضرور وَلَوْ اسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْا وَ هُمْ مُعْرِضُونَ اُن کو سناتا۔اور اگر اُن کو سنائے تو وہ ضرور بھا گیں منہ پھیر کر۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ ۲۵ - اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی باتیں سنا وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ کرو جب وہ تم کو بلائیں اُن سے مُردے زندہ ہوتے ہیں (یا وہ مردوں کو زندہ کرتے ہیں) وَاعْلَمُوا اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ اور جان رکھو کہ اللہ آڑے آ جاتا ہے آدمی اور اس کے دل کے اور یہ جانو کہ تم سب اللہ ہی کے وَقَلْبِهِ وَأَنَّةَ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ پاس اکٹھے کئے جاؤ گے۔(بقیہ حاشیہ) اَنَّ اللهَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ۔فتح دینے اور کامیاب کرنے میں مومنوں کے ساتھ ہے۔آیت نمبر ۲۵ - لِمَا يُحْيِيكُمُ۔اس آیت شریف سے ظاہر ہے کہ آنحضرت سرور کائنات علیہ حضرت مسیح سے بڑھ کر عام طور پر مُردوں کو زندہ کیا کرتے تھے۔یعنی کافروں کو۔اَنَّ اللهَ يَحُولُ۔پس اگر انسان نیکی کے ارادہ کے ساتھ نیکی کرے تو وہ اس قانونِ الہی کے تحت میں آ جاتا ہے جیسا کہ ایک با اختیار حاکم اپنے اختیارات سے کام نہ لے تو بادشاہ اس کے آڑے آ جاتا ہے یعنی اس کے اختیارات چھین لئے جاتے ہیں۔پس آدمی کو نیکی کا موقع ملے تو اس کی ناقدری نہ کرے کیونکہ پھر ایسا موقع نہیں ملے گا۔