اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 368
قال الملا ۹ ۳۶۸ الانفال ۸ وَالرَّسُوْلِ فَاتَّقُوا اللهَ وَاَصْلِحُوا ذَات کا حال تم جواب دو کہ مال انفال اللہ اور رسول کا ہے تو تم اللہ کا خوف کرو اور آپس میں صلح کاری بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَةٌ اِن کرو اور اللہ اور رسول کی اطاعت کرو جب تم مومن ہو۔كُنتُمْ مُّؤْمِنِينَ إنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ ۳ ایمان دار تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر آئے وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ أَيْتُهُ تو ان کے دل ڈر جائیں اور جب ان پر پڑھی جاتی ہیں اُس کی آیتیں تو ان کا ایمان بڑھا دیتی زَادَتْهُمْ إِيْمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ ہیں اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں۔الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ ۴۔جو لوگ ٹھیک درست رکھتے ہیں نماز کو اور ہمارے دئے ہوئے سے خرچ کرتے ہیں۔يُنْفِقُونَ ةٌ أوليك هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ - - یہی لوگ سچے ایمان دار ہیں۔ان کے لئے (بقیہ حاشیہ ہوا کہ اللہ ورسول کے حکم کے مطابق تقسیم ہوگی۔غنیمت کی تقسیم اس طرح پر کہ ایک حصہ رکھ لیں باقی سوار کے دو حصے۔پیدل کا ایک حصہ۔پانچواں حصہ جو رکھا ہے اللہ اور رسول کے قرابتیوں۔یتیموں۔مسکینوں مسافروں کا ہوگا۔فی غربا اور مساکین اور عام مسلمانوں کا حق ہے۔باغ فدک فئی تھا غنیمت نہ تھا دیکھو پارہ ۲۸ سوره حشر آیت ۷ كَمَا اَخْرَجَكَ۔یعنی انفال کو ہم نے لوگوں کے قواعد پر نہیں رکھا کیونکہ یہ تیرا خاص حصہ تیرے رب کا فضل تھا تجھ پر۔اِذْ تَسْتَغِيْمُونَ رَبَّكُمُ۔یہ اصحاب بدر سے متعلق ہے جو تین سو تیرہ آدمی تھے اور ستر اونٹ اور دو گھوڑے چھ زرہ آٹھ تلوار میں رکھتے تھے اور کفار کے سوار نو سو پچاس تھے۔علامات فتح چار چیزیں بتائی ہیں۔(۱) فَاسْتَجَابَ لَكُمُ (۲) أَنَّى مُدُّكُمُ (۳) لِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُمْ (۴) إِذْ يُغَشِّيْكُمُ النعاس - چونکہ مقابل والے پانی پر قبضہ کر چکے تھے اس واسطے پانی مانگ رہے تھے۔لہذا خدا نے تمہاری دعا قبول کر لی۔لَكَرِهُونَ۔کراہت سے مراد سخت و مشکل کام ہیں نہ کہ قابلِ نفرت - يُسَاقُونَ إِلَى الْمَوْتِ۔یہ بزدل منافقوں کی حالت ہے نہ کہ مخلص صحابہ کی۔وَهُمْ يَنظُرُونَ۔تیرا نکلنا خدا کے حکم کے موافق تھا نہ آدمیوں کی خواہش پر کیونکہ لوگ تو مکر وہ یعنی مشکل سمجھتے تھے۔إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ۔اس سے یہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی سے کبھی نہایت اجمالی علم دیا جاتا ہے، دوسرے یہ بھی ظاہر ہے کہ قرآن کریم کے علاوہ حضرت کو اور بھی وحی ہوتی تھی۔