اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 367 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 367

قال الملا ۹ الانفال ۸ سُوْرَةُ الْاَنْفَالِ مَدَنِيَّةٌ وَهِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ سِتٌ وَّ سَبْعُونَ آيَةً وَّ عَشَرَةُ رُكُوعَاتٍ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورۃ انفال کو اس اللہ کے اسم شریف سے پڑھنا شروع کرتے ہیں جو تہیہ اسباب کرنے والا ہے اور اسبابوں پر عمل کرنے والوں کو نتیجہ پر دینے والا ہے۔يَسْتَلُوْنَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ قُلِ الْأَنْفَالُ لِلهِ ۲۔تجھ سے پوچھتے ہیں امید سے زیادہ مال ملنے صلى الله ہید۔اس سورۃ میں جنگ بدر کا ذکر ہے۔جنگ بدر کا سبب نبی کریم کے مکہ سے بسبب ان مجبوریوں کے جو کفار سے پیش آئیں نکلے اور مکہ سے دوسو، ڈھائی سو میل پر آڈیرا لگایا۔لیکن مکہ کے دشمنوں نے دشمنی میں اور ترقی کی اگر چہ وہ تجارتوں کے لئے مختلف ممالک میں جایا کرتے تھے جن میں سے ایک شام بھی تھا لیکن ان دنوں میں انہوں نے شام کا سفر زیادہ کر دیا۔مدینہ میں نبی کریم ﷺ کے رہنے کے باعث انہوں نے یہ شروع کیا کہ بہانہ تو شام جانے کا لیکن مقصد نبی کریم کی مخالفت میں لوگوں کو اکسانے کا۔وہ کبھی مدینہ کے مشرق سے گزرتے اور کبھی مغرب سے گزرتے اور کبھی مدینہ کے اندر سے بھی گزر جاتے۔وہاں کے یہود اور باقی مشرک قوموں کو جو مدینہ کے نواح میں رہتی تھیں اُن کو آپ کے مقابلہ کے لئے اکساتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کئی دفعہ آپ کے صحابہ میں سے اگے دئے کوقتل کر دیا اور کئی دفعہ آپ کے کھیتوں اور مویشیوں پر چھاپے مارے جب آپ نے دیکھا کہ یہ دو سو میل پر بھی چلے آنے سے دشمنی سے باز نہیں آتے اور آگے سے بھی دشمنی کو خطرناک کر دیا ہے تو آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اجازت ہوئی کہ آپ ان کے انسداد کی فکر کریں۔آپ کو اجمالاً بتلایا گیا کہ دشمنوں کے دو گروہ ہیں جن میں سے ایک پر ضرور غلبہ حاصل ہو گا۔آپ کے صحابہ کو یہی خیال تھا کہ ابوسفیان کا قافلہ جو اصل بانی مبانی فساد کا تھا اس سے کہیں مقابلہ ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو مقام بدر میں ایسی جگہ جمع کیا کہ جہاں تمام صنَادِیدِ قریش ابو سفیان کے قافلہ کی حمایت کے لئے اور اسلام کے مقابلہ کے لئے پہنچے ہوئے تھے۔آیت نمبر ۱۰،۸،۷،۶،۲ - الانفال۔مالِ غنیمت کی تین قسمیں ہیں۔انفال جو نفل سے مشتق ہے یعنی امید سے زیادہ مال ملنا کہیں سے ہو۔دوسرے فیس جو بدوں جنگ کے مل جائے۔تیسرا غنیمت۔غنیمت کے لغوی معنی حصولِ مال اور اصطلاحی جو جنگ کے بعد ملے۔انفال عام ہے۔بدر میں کفار ایک ہزار اور مسلمان تین سو تیرہ تھے۔جنگ تھوڑی سی ہو کر غنیمت بہت ہاتھ آئی اس لئے اس کی تقسیم کی نسبت سوال ہوا یعنی زیادہ مال ملے تو کیا کریں۔ارشاد