اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 360
قال الملا ۹ ۳۶۰ الاعراف ۷ وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَا الَّذِي أَتَيْنَهُ ابْتِنَا فَانْسَلَخَ ۱۷۶۔اور سنا ان کو اس شخص کا حال جس کو دی تھی ہم مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَنُ فَكَانَ مِنَ الْغُوِيْنَ نے اپنی آیتیں پھر وہ الگ ہو گیا ان سے اور اس کے پیچھے لگا شیطان تو وہ گم راہوں میں سے ہو گیا۔وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَهُ بِهَا وَلَكِنَّةَ اخْلَدَ ۱۷۷۔اور اگر ہم چاہتے تو اس کو رفع دیتے اُن إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوىهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ نشانیوں سے لیکن وہ زمینی چیزوں ہی کی طرف جھکا اور وہ اپنی گری ہوئی خواہشوں کے پیچھے لگ الكَلْبِ إِنْ تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ اَوْ گیا تو اس کی مثال جیسے ایک کتے کی مثال ہے تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ اگر تو اُس پر حملہ کرے تو ہانپے اور چھوڑ دے تو كَذَّبُوا بِايْتِنَا ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ بھی زبان لٹکا دے اور ہانپے یہی مثال ہے اُس لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ قوم کی جنہوں نے ہماری آیتیں جھٹلائیں تو تو یہ نصیحت خیز ) قصہ بیان کرتا کہ وہ بچیں۔آیت نمبر ۱۷۶، ۱۷۷ ۱۸۰ - نَبا الَّذِى - ابن عباس اور ابن مسعودؓ اور مجاہد کہتے ہیں کہ بلعم بن باعور کی طرف اشارہ ہے جس کا تذکرہ کتاب عدد باب ۲۲ و ۲۳ میں ہے۔فَانسَلَخَ باہر ہو گیا احکام سے۔فَأَتْبَعَه تابع کیا اس کو۔كَمَثَلِ الكلب۔کتے میں یہ بد عادتیں ہوتی ہیں۔حریص بڑا ہوتا ہے۔ہم جنس کی ہمدردی اُس میں نہیں ہوتی۔کھانے کے سوائے کسی کام کا نہیں۔مادہ کی مقعد کو بہت سونگھتا ہے۔اچھے کپڑوں والوں کو نہیں بھونکتا۔پیاس پر صبر نہیں کر سکتا۔بے سبب ہانپتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی سخت آگ اس کے اندر گی ہوئی ہے۔غریب اور میلے کپڑے والے آدمیوں پر بھونکتا ہے۔اپنی جنس کا دشمن ہوتا ہے۔جب قریب ہو تو الہام نہیں ہوتا۔شکاری اور کھیت کا رکھوالا کتا اس سے مستفی ہے۔دیوانہ کتے کا کاٹا ہوا شخص پانی سے نفرت کرتا ہے اور اچھا کم ہوتا ہے۔اس شخص کی مثال کتے کی ہے اس لئے کہ کتے کو جو زبان نکالنے کی عادت ہے بسبب شدت حرص یا پیاس اگر اس کو ماریں یا جھڑ کیں تا کہ وہ اپنی زبان کو نہ نکالے مگر وہ اپنی اس عادت سے باز نہیں آتا یہ مارنا اور جھڑکنا اس کے لئے مفید نہیں ہوتا۔ویسے ہی وہ انسان جو نفس امارہ کا پیرو ہے اُس کو نشان دکھلائے جاتے ہیں جو کہ اس پر بطور حملہ اور ضرب کے ہیں مگر وہ نشانوں کو دیکھتا ہوا اور بینات کا مشاہدہ کرتا ہوا پھر بھی باز نہیں آتا تو وہ کہتا ہی ہے۔اِن تحمل لادے یا حملہ کرے قُلُوْبُ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا ـ خدا کے دیئے ہوئے اعضاء سے کام نہیں لیتے تو وہ ضائع ہو جاتے ہیں وَلَهُمْ أَعْين جمع کا لفظ فرمایا تا کہ عینک وغیرہ سب آجائیں۔اَلْغُفِلُونَ۔سُست و آرام طلب صرف ناز و نعم میں بسر کرنے والے۔بے فکرے۔