اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 359 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 359

قال الملا ۹ ۳۵۹ الاعراف ۷ ج وظَنُّوا أَنَّهُ وَاقِع بِهِمْ خُذُوا مَا پر گویا وہ چھتری ہے اور انہوں نے یقین کیا کہ أَتَيْنَكُمْ بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوا مَا فِيْهِ لَعَلَّكُمْ وہ اب ان پر گرا اور ہم نے فرمایا کہ پکڑ مضبوطی و سے جو حکم ہم نے تم کو دیئے ہیں اور یاد کرو جو تَتَّقُونَ اس کتاب میں ہے تا کہ تم دکھوں سے بچو۔وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ۱۷۳۔اور جب جب نکالتا ہے تیرا رب بنی آدم ـهُ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلَى » کی پشتوں سے ان کی اولا د کو تو اُن کو اُن کے ظُهُورِهِمْ نفسوں پر شاہد کرتا ہے کیا میں تمہارا رب ہوں یا أَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى نہیں تو وہ پکارا ٹھتے ہیں کہ جی ہاں ! جی ہاں ! ہم شَهِدْنَا أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيِّمَةِ إِنَّا كُنَّا گواہ ہیں ایسا نہ ہو کہ کہہ دو انجام کے وقت کہ ہم تو اس سے بالکل بے خبر ہی تھے۔E عَنْ هَذَا غُفِلِينَ أوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ ۱۷۴۔یا کہہ دو محض ہمارے باپ دادا ہی نے ہم وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا سے پہلے شرک کیا اور ہم تو ان کے پیچھے اولاد ہوئے پھر کیا تو ہم کو ہلاک کرتا ہے اس وجہ سے بِمَا فَعَلَ المُبْطِلُونَ وَكَذَلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَتِ وَلَعَلَّهُمْ ۱۷۵ اسی طرح ہم مفصل بیان کرتے ہیں نشانیاں تا کہ وہ پھر آویں۔يَرْجِعُونَ جو بدکاروں نے کیا۔آیت نمبر ۱۷۳۔مِنْ ظُهُورِهِمْ۔ظہور کا لفظ فصاحت کلام کے لئے ہے۔حدیث میں بھی یہ محاورہ ہے عام محاورہ عرب بھی ہے۔مثلاً كَانَ يَنْشُدُ عَنْ ظَهْرِ قَلْبِهِ اور حدیث كُنتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا اور بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ أَي وَسَطِهِمُ (قاموس ) تو مِنْ ظُهُورِهِمْ کے معنی مِنْهُمُ کے ہوئے۔وَاَشْهَدَهُمْ - گواہ قرار دیا عَلَى انفُسِهِم ہر آدمی عقل آئے بعد معلوم کر لیتا ہے کہ میرا ایک رب ہے۔امکان و بشریت کی کمزوری ہر نفس کی شہادت ہے کہ وہ مخلوق ہے الْبَعْرَةُ تَدُلُّ عَلَى الْبَعِيرِ وَا ثَارَ الْقَدَمِ عَلَى السَّفِيرِ۔اور فطرتی طور پر بنی آدم سمجھتے ہیں کہ ہم اپنے آپ تو رب نہیں ہیں پھر وجدانی طور پر خدا کی آواز سنتے ہیں کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں۔بلی شَهِدُنَا۔جی ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپ ہمارے رب ہیں اور بتقاضائے فطرتی ہم نے اس واسطے رکھا کہ ایسا نہ ہو کہ کہہ دو انجام کے وقت کہ ہم تو اس سے بالکل بے خبر تھے۔