اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 358 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 358

قال الملا ۹ ۳۵۸ الاعراف ۷ مِنْهُمُ الصَّلِحُوْنَ وَمِنْهُمْ دُونَ نکریاں ٹکریاں کر کے کچھ تو ان میں سے نیک ذلِكَ وَبَلَوْنَهُمْ بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيَّاتِ ہیں اور کچھ نیکیوں کے سوائے ہیں اور ہم نے امتحان لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ کیا اُن کا سکھ اور دُکھ سے تا کہ وہ پلٹ آویں۔فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَرِثُوا ۱۷۰۔تو پیچھے آئے اُن کے ایسے ناخلف جو الكتبَ يَأْخُذُونَ عَرَضَ هَذَا الْأَدْلى وارث بنے کتاب کے وہ لیتے ہیں اس ادنی دنیا کا مال اور کہتے ہیں کہ قریب ہی ہم کو معاف ہو ط وَيَقُولُونَ سَيُغْفَرُ لَنَا وَإِنْ يَأْتِهِمْ جائے گا اور اگر ان کے پاس کوئی دنیوی چیز عَرَضُ مِثْلُهُ يَأْخُذُوهُ اَلَمْ يُؤْخَذُ آوے اتنی ہی تو اس کو بھی لے لیس کیا ان سے عَلَيْهِمْ مِّيْثَاقُ الْكِتَبِ اَنْ لَّا يَقُولُوا عَلَى اقرار نہیں لیا گیا تھا پکا جولکھا ہوا کتاب میں ہے اللهِ إِلَّا الْحَقَّ وَدَرَسُوْا مَا فِيهِ وَالدَّارُ یہ کہ نہ بولیں اللہ پر سچ کے سوائے کچھ اور ، اور وہ پڑھ چکے ہیں جو اس کتاب میں ہے اور آخرت الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِيْنَ يَتَّقُونَ أَفَلَا کا گھر بہت ہی اچھا ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے تقویٰ کیا تو کیا تم کچھ بھی نہیں سمجھتے۔تَعْقِلُونَ وَالَّذِيْنَ يُمَسِكُونَ بِالْكِتُبِ وَأَقَامُوا ا۔اور جولوگ مضبوطی سے پکڑے ہوئے ہیں الصَّلوةَ إِنَّا لَا نُضِيعُ أَجْرَ الْمُصْلِحِينَ کتاب اور نماز کوٹھیک درست رکھتے ہیں۔تو ہم ضائع نہیں کریں گے ثواب سنوار والوں کا۔وَإِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَأَنَّهُ ظُلَّةٌ ۱۷۲۔اور وہ یاد کرو جو ہم نے بلند کیا پہاڑ کو ان (بقیہ حاشیہ) صاف تر ہے کہ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ (المائدة: ٢١) یعنی بعض ان میں سے نیک ہو گئے اور بعض خفیف العقل بندر اور بعض سور۔حریص و بے جا نا عاقبت اندیش رہے۔بعض ٹھا کروں کے بندے اور ہم ان کو سکھ دکھ دیتے رہے کہ وہ اپنی بدکاریوں سے رجوع کریں۔آیت نمبر ۱۷۰ - وَإِن يَأْتِهِمْ عَرَضُ - مال اور دولت حرام۔یہاں بدی اور حرص، بے جا جمع ، حاصل کی ہوئی دولت مراد ہے۔دوسری جگہ عام دولت و قیمت۔آیت نمبر ۱۷۱ - يُمَسّكُونَ بِالْكِتب - یعنی مضمون کتاب پر عمل کرتے ہیں۔آیت نمبر ۱۷۲۔نتقنَا۔کھڑا کیا۔بلند کیا۔پہاڑ اس طرح کھڑا تھا گویا چھتری ہے۔بعض پہاڑ اسی قسم کے ہوتے ہیں گویا ایک بڑی چھتری کھڑی کر دی گئی ہے۔