اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 357
قال الملا ۹ ۳۵۷ الاعراف ۷ عَذَابًا شَدِيدًا قَالُوْا مَعْذِرَةً إِلى رَبِّكُمْ بلاک کرنا چاہتا ہے یا عذاب کرنے والا ہے اُن وَلَعَلَّهُمْ يَتَّقُونَ پر سخت۔انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے رب کے سامنے الزام سے بچنے کوتا کہ وہ متقی بن جائیں۔نصیحت کی گئی تھی تو ہم نے صرف اُن کو بچالیا جو فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِلَ أَنْجَيْنَا الَّذِيْنَ ١٢٦۔پھر جب بھول گئے وہ بات جس کی اُن کو يَنْهَوْنَ عَنِ السُّوءِ وَاَخَذْنَا الَّذِينَ ظَلَمُوا منع کرتے تھے بُرے کام سے اور ظالموں کو پکڑ لیا بِعَذَابِ بَبِيْسٍ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ) بہت بُرے عذاب میں کیونکہ وہ نا فرمان تھے۔فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ ۱۶۷۔پھر جب وہ حد سے بڑھ گئے جس کام سے ان کو منع کیا جاتا تھا تو ہم نے کہا ان کو كُونُوا قِرَدَةً حَبِيْنَ ہو جاؤ بندر ذلیل۔وَاذْتَاذَنَ رَبُّكَ لَيَبْعَثَنَّ عَلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ ۱۲۸۔اور وہ یاد کرو جب جتا دیا تیرے رب نے کہ الْقِيِّمَةِ مَنْ يَسُوهُهُمُ سُوءَ الْعَذَابِ إِنَّ ضرور مسلط کرے گا (غالب رکھے گا) ان پر قیامت تک ایسے شخص کو جو انہیں دیا کرے بُری رَبَّكَ لَسَرِيعُ الْعِقَابِ وَإِنَّهُ لَغَفُورُ تکلیفیں۔بے شک تیرارب بہت جلد عذاب کرنے والا ہے اور کچھ شک نہیں کہ وہ غفور الرحیم بھی ہے۔رحِيم وَقَطَعْنَهُمْ فِي الْأَرْضِ اُمَما ۱۶۹۔اور ہم نے تتر بتر کر دیا اُن کو ملک میں آیت نمبر ۱۶۶۔اَنْجَيْنَا۔مانعین اور ناصحین عذاب سے بچے۔معلوم ہوتا ہے کہ ساکتین بھی مبتلائے عذاب ہو جاتے ہیں اور حدیث میں ساکت کو شَيْطَانُ الْأَخْرَسُ فرمایا ہے۔آیت نمبر ۱۶۷۔قِرَدَةً - خفیف العقل ، چھچھورے، بندر اور بندر کی خاصیت والے۔آیت نمبر ۱۲۸۔تَاذَنَ۔جتا دیا۔خبر دار کر دیا۔عَلَيْهِمُ یعنی یہود پر مسلط کرے گا۔لَسَرِيعُ الْعِقَابِ یہ یہود کی تباہی کی پیشگوئی ہے۔لَغَفُورٌ رَّحِیمُ یعنی یہود میں سے جو حق کی طرف رجوع کر جائیں گے ان کے قصور معاف کئے جائیں گے۔وہ نیک بدلہ پائیں گے۔آیت نمبر ۱۶۹۔وَقَطَعْنَهُمْ۔یہ قِرَدَةً کی تفسیر ہے جو پارہ اول میں بھی آچکا ہے خُسِبِيْنَ فَاعِلِینَ کے وزن پر خاص آدمیوں ہی کے لئے آیا ہے جمع کی ، ان کے ساتھ علمی رنگ ہے کہ یہ جمع غیر ذوی العقول کی نہیں آتی جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب انسان ہی تھے نہ جانور۔بندر۔پارہ چھ رکوع تیرہ میں یہ مسئلہ اور بھی -