اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 356 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 356

قال الملا ۹ ۳۵۶ الاعراف ۷ حِيْتَانُهُمْ يَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَ يَوْمَ لَا آرام کے دنوں میں اللہ جل شانہ کی بڑی يَسْبِتُونَ لَا تَأْتِيهِمْ كَذَلِكَ نَبْلُوهُمْ مخالفت کی جب آنے لگیں ان کے پاس مچھلیاں ان کے آرام کے دنوں میں پانی کے اوپر اور جب بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ۔آرام کے دن نہ ہوں یعنی (خشک سالیوں میں ) تو نہیں آتی تھیں اُن کے پاس۔اسی طرح ہم ان کو آزمانے لگے کیونکہ وہ نا فرمان تھے۔النصف وَإِذْ قَالَتْ أُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُونَ ۱۶۵۔اور جب کہا اُن میں سے ایک جماعت نے قَوْمَا اللهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمُ کیوں نصیحت کرتے ہو اُس قوم کو جس کو اللہ لا (بقیہ حاشیہ) السبت - حضرت حکیم الامت خلیفة المسیح مولانا مولوی نورالدین صاحب نے فرمایا کہ میں نے اپنی اولاد کے لئے کثرت دولت کی دعا نہیں کی کیونکہ اکثر دولت مندی فسق و فجور کا سبب ہو جاتی ہے اسی طرح ہمارے حضور سید المرسلین خاتم النبیین نے بھی اپنی اولاد کے لئے بقدر ضرورت کی دعا کی ہے۔شُرعا یعنی جب موسم اور بارشیں اچھی ہوں تو مچھلیاں بہت ہوتیں ہیں يَوْمَ لَا يَسْبِتُونَ سبت کے تین معنی ہیں (۱) ہفتہ جو یہود کی عبادت کے واسطے مخصوص تھا اُس دن کو وہ مچھلی کے شکار میں گزارتے تھے جیسے ہمارے زمانہ کے نوجوان بے فکرے جمعہ و اتوار کو شکار بحری ویڑی میں مصروف رہتے ہیں اُن کی آزمائش کے لئے یہ حکم دیا گیا۔ممانعت کے بعد انہوں نے دریا کے قریب حوض کھود کے نالیں بنائیں جن سے مچھلیاں حوض میں آجاتیں اتوار کو جا کر پکڑ لیتے اس استہزاء اور مکر سے اُن پر لعنت پڑی۔ہمارے فقہاء بھی حیلہ شرعی جائز بتاتے ہیں وہ اس آیت سے عبرت پکڑیں مگر بعض مواقع میں جن میں حقوق اللہ یا حقوق العباد کی رعایت ہو وہ مستی ہیں۔(۲) راحت معنی یہ ہوئے کہ کسی قوم یا آدمی کو آرام و آسائش کے سامان اللہ جَلَّ شَــانــه عطا فرمائے تو وہ اس کی قدر کرے ورنہ قہر الہی اُس پر نازل ہوگا۔(۳) سبت کے معنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں کیونکہ پولوس آپ کو سبتی نبی قرار دیتا ہے۔تو آپ کی گرامی قدر کی قدر کرنا سب پر ضروری ہے ورنہ ذلت ومصیبت ہوگی ( مجھے اس کا حوالہ نہیں ملا ہے ) ہمارے حضرت مولانا نورالدین صاحب نے بیان فرمایا ہے۔نَبْلُوهُمْ - ابتلا تین قسم کے ہوتے ہیں (۱) امام کے لئے اِذِ ابْتَلَى ابْرُهم رَبُّهُ (البقرة: ۱۲۵)۔عام بَلَوْنُهُمْ بِالْحَسَنتِ وَالسَّيَّاتِ (الاعراف: ١٢٩ ) بدکاروں کے لئے نَبْلُوهُمْ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ (الاعراف: ۱۶۴)۔اس کا ذکر پارہ ۱۰ ۱۲ میں بھی آیا ہے۔دیکھئے سورۃ التوبۃ تفسیر آیت نمبر ۳۸۔