اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 355
قال الملا ۹ ۳۵۵ الاعراف ۷ فَانْبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا قَدْ پس پھوٹ نکلے اس سے بارہ چشمے۔بے شک پہچان لیا ہر ایک نے اپنا اپنا پنگھٹ۔اور ہم عَلِمَ كُلُّ أَنَاسِ قَشْرَ بَهُمْ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ نے اُن پر ابر کا سایہ کیا اور ہمیں نے اُن پر من الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْهِمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوِی اور سلوی اتارا۔اور اجازت دی کہ کھاؤ كُلُوا مِنْ طَيِّبَتِ مَا رَزَقْنَكُمْ وَمَا پاکیزہ چیزیں جو ہم نے تم کو دیں اور انہوں نے ہمارا تو کچھ نہ بگاڑا ہاں ! اپنی جانوں کا نقصان ظَلَمُوْنَا وَلكِن كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ کرتے رہے۔وَاذْقِيْلَ لَهُمُ اسْكُنُوا هَذِهِ الْقَرْيَةَ وَكُلُوا ۱۲۲۔اور جب ان کو کہا گیا آرام اور چین سے مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ وَقُولُوا حِظَةٌ وَادْخُلُوا رہو اس بستی میں اور کھاؤ اُس میں سے جہاں چاہو اور کہو ہمارے قصور معاف کر اور دوازے الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِيتِكُمْ میں داخل ہو فرمانبردار ہو کر تو ہم (تمہاری حفاظت کریں گے ) تمہاری خطائیں بخش دیں سَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِينَ b گے قریب ہی محسنوں کو ہم بہت کچھ دیں گے۔فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْهُمْ قَوْلًا غَيْرَ ۱۶۳۔تو بدل دیا ان میں سے بے جا کام کرنے الَّذِي قِيْلَ لَهُمْ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِجْزًا والوں نے بات کو اس کے سوائے جو اُن سے کہی گئی تھی تو ہم نے بھیج دی اُن پر بلائے آسمانی نچ مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَظْلِمُونَ کیونکہ وہ بے جا کام کرنے والے تھے۔وَسُلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِي كَانَتْ حَاضِرَةَ ۱۶۴۔اور پوچھ لے اُن سے اُس بستی کا حال جو الْبَحْرِ إِذْ يَعْدُونَ فِي السَّبْتِ إِذْ تَأْتِيهِم سمندر کے کنارے کے قریب تھی اُن لوگوں نے آیت نمبر ۱۶۲ - اَلْقَرْيَة - یعنی اریحا میں یہ حضرت موسی کے وفات کے بعد کا قصہ ہے جب ان کے خلیفہ یوشع بن نون پر دن ندی کو عبور کر کے اریحا میں پہنچے۔یہ قریہ شام میں بیت المقدس سے بیس میل کے فاصلہ پر آباد تھا۔آیت نمبر ۱۶۳ - رِجْزا مِنَ السَّمَاء - عذاب آسمانی ، بلائے آسمانی ، کتاب یشوع کے بابے میں دیکھو کہ عی کے لوگوں نے بنی اسرائیل کو شکست دے کر بہتوں کو قتل کر ڈالا۔آیت نمبر ۱۶۴ - يَعْدُونَ۔زیادتی کرتے تھے۔خدا سے بڑھتے تھے۔نافرمانی کرتے تھے۔