اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 352 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 352

قال الملا ۹ ۳۵۲ الاعراف ۷ وَالَّذِيْنَ عَمِلُوا السَّيَّاتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْ ۱۵۴۔اور جنہوں نے بُرے کام کئے پھر اس کے بَعْدِهَا وَامَنُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا بعد توبہ کر لی اور کچے دل سے اللہ کو مانا تو کچھ شک نہیں کہ تیرا رب تو بہ کے بعد البتہ بڑا عیبوں الغفور رحيم رَّ حِيم کا ڈھانپنے والا سچی کوشش کا بدلہ دینے والا ہے۔وَلَمَّا سَكَتَ عَنْ مُوسَى الْغَضَبُ اَخَذَ ۱۵۵۔پھر جب ٹھہر گیا موسیٰ کا غصہ اٹھا لیں الْأَلْوَاحَ وَفِي نُسْخَتِهَا هُدًى وَرَحْمَةٌ تختیاں اور اس میں جولکھا ہوا تھا وہ ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب سے لِلَّذِينَ هُمْ لِرَبِّهِمْ يَرْهَبُوْنَ ) ڈرتے ہیں۔وَاخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهُ سَبْعِينَ رَجُلًا ۱۵۶۔اور چن لئے موسیٰ نے اپنی قوم میں سے ستر آدمی ہمارے وعدے پر لانے کو پھر جب ان کو لمِيقَاتِنَا فَلَمَّا أَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ آلیا زلزلہ نے تو موسیٰ نے عرض کی اے میرے رَبِّ لَوْ شِئْتَ أَهْلَكْتَهُمْ مِنْ قَبْلُ ربّ! اگر تو ان کو پہلے ہی ہلاک کرنا چاہتا تھا اور ! وَإِيَّايَ آتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَاءُ مِنَّا مجھ کو ( تو تو کرسکتا تھا) کیا تو ہم کو ہلاک کئے دیتا ہے اس حرکت پر جو کر بیٹھے ہم میں کے نادان إِنْ هِيَ إِلَّا فِتْنَتُكَ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَاءُ امق یہ تمیز کرنا ہے تیرا اور امتحان ہے بھلے وَتَهْدِي مَنْ تَشَاءُ اَنْتَ وَلِتُنَا بُرے میں۔ہٹا دے تو اس تمیز سے جسے چاہے اور راه راست پر لگا دے تو جسے چاہے تو ہی بس ہمارا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَاَنْتَ خَيْرُ الْغَفِرِينَ ولی اور کارساز ہے تو ہمارے عیب ڈھانپ لے اور ہم پر رحم فرما اور تو ہی سب سے اچھا عیبوں کا چھپانے والا ہے۔(بقیہ حاشیہ) جنگل جنگل حیران پھرتے رہے یہاں تک کہ ان کی نئی نسل کنعان تک پہنچی اور جن کی عمر میں (سال) سے زائد تھی وہ سب ہلاک ہوئے۔آیت نمبر ۱۵۶ - اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ۔یہاں رَجُفَة اور زلزلے سے وہی صاعقہ مراد ہے جس کا ذکر (البقرة : ۵۵ ) میں ہے یعنی آتش فشاں پہاڑ تھا حکم الہی سے زلزلہ آیا جو حصول توجہ الی اللہ اور رقت قلبی کے لئے تھا جس سے موسیٰ کے ہمراہی ۷۰ افسر ڈرے اور بے ادبی کے کلمات منہ سے نکالے کہ ہم بلکہ ہماری اولاد خدا کی آواز کبھی سنا نہیں چاہتے جس بے ادبی کا یہ نتیجہ ہوا کہ موسٹی کے جیسا آدمی پھر اُن میں پیدا نہ ہوا اور اعلیٰ رسالت کی تبدیل خاندان اسمعیل میں ہو گئی۔