اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 348
قال الملا ۹ ۳۴۸ الاعراف ۷ قَالَ رَبِّ اَرِنِي أَنْظُرُ إِلَيْكَ قَالَ لَنْ وقت پر (وعدہ گاہ میں ) اور اُس سے بات کی اس کے رب نے ، موسیٰ نے عرض کی اے میرے تَرينِي وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْجَبَلِ فَإِنِ رب! تو مجھے دکھا کہ میں تجھے دیکھوں۔اللہ نے اسْتَقَرَّ مَكَانَهُ فَسَوْفَ تَرَانِي فَلَمَّا فرمایا تو مجھے ہرگز نہ دیکھ سکے گا لیکن تو دیکھ پہاڑ کی طرف پھر اگر وہ اپنی جگہ ٹھہرا رہا تو مجھے آگے تَعَلى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكَّا وَخَر دیکھ سکے گا تو پھر جب اس کے رب نے اپنی مُوْسٰى صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ صفاتی جلوہ گری دکھائی پہاڑ پر تو کر دیا اس کو ریزہ سُبْحَنَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَاَنَا اَوَّلُ ریزہ اور گر پڑا موسیٰ بے ہوش ، پھر جب موسیٰ ہوش میں آیا تو بول پڑا تو بڑا بے عیب پاک ذات ہے رجوع کرتا ہوں تیری طرف اور میں تو سب سے پہلے تجھے ماننے والوں ہی میں ہوں۔الْمُؤْمِنِينَ آیت نمبر ۱۴۴ - رَبِّ اَرِنی۔چونکہ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (الانعام: ۱۰۴) کا ارشاد ہے اس لئے حضرت موسی نے لفظ ارنٹی کے ساتھ درخواست کی یعنی تو مجھے اپنا جلوہ دکھا تو میں دیکھ سکتا ہوں۔جَعَلَهُ دَعا۔صوفیاء کہتے ہیں کہ تجلی الہی ہوئی نہیں تو دعا دعا کیوں ہوا۔ہندی میں دھکم دھکا اسی کا بگڑا ہوا ہے یعنی پتھر سے پتھر ٹکرا گیا۔علماء کہتے ہیں موسی برداشت نہ کر سکے اس لئے لَنْ تَرَانِی محبت سے کہا گیا اور استقرار مکانی پر مشروط کیا گیا جو عالم بیخودی اور مقام فنا کا متقاضی ہے لَنْ تَرَانِی ابھی نہیں دیکھ سکتا۔صوفی کہتے ہیں خود خواہش نہ کرو خدا کی خواہش کی پیروی کرو۔بظاہر موسیٰ علیہ السلام کی دو درخواستیں منظور ہوئیں ایک وہ کہ اِسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا (الكهف: ۷۸) دوسرے یہ لَنْ تَرَانِی۔اس کی وجہ یہ ہوئی کہ صفت رحمانیت اور ربوبیت سے جو فیض ہو رہا ہے اس سلسلہ میں اور کچھ مانگنا بعض وقت نا پسند ہوتا ہے چنانچہ اس کے آگے دوسری آیت میں ارشاد ہوتا ہے کہ فَخُذْ مَا أَتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّكِرِينَ (الاعراف: ۱۴۵)۔ایسا ہی حضرت ابراہیم کو اور نوح کو ان مواقع پر اسی طرح کا جواب ملا تھا۔لَنْ تَرَانِي کے ارشاد سے دیدار کا انکار نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے معراج شریف میں اللہ جل جلالہ کو دیکھا۔امت کو کہا تم قیامت میں اپنے رب کو چودھویں رات کے چاند کی طرح دیکھو گے۔اور بہت سے اولیاء اللہ نے شرف دیدار حاصل کیا۔ابنِ کثیر کا قول ہے کہ دیدار کا مسئلہ صحابہ میں متفق علیہ تھا اور تابعین اور ائمہ مجتہدین میں بھی اسی پر اتفاق ہی رہا اور کتب سابقہ سے بھی دیدار کا حق ہونا ثابت ہے۔وَخَرَّ مُوْسٰى صعقا۔غشی ہوئی تا کہ دنیوی اسباب منقطع ہو جاویں اور یہاں کے حواس گم اور صَعِقًا - فنائیت کی حالت میں دیدار نصیب ہو جیسا کہ دیدار کا قاعدہ ہے وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِین یعنی دیدار کی طلب تیرے انکار سے نہ تھی بلکہ اشتیاق کی زیادتی کی وجہ سے تھی۔