اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 346
قال الملا ۹ ۳۴۶ الاعراف ۷ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بُرَكْنَا فِيهَا وَتَمَّتْ برکت رکھی ہے۔اور پوری ہوئی اچھی پیش گوئی كَلِمَتُ رَبَّكَ الْحُسْنَى عَلَى بَنِي تیرے رب کی بنی اسرائیل پر اس سبب سے کہ انہوں نے صبر کیا، اور ہم نے تباہ کر دیا جو کچھ إسْرَائِيلَ بِمَا صَبَرُوا وَدَمَّرْنَا مَا كَانَ بنایا تھا فرعون اور اس کی قوم نے اور وہ جو اونچی يَصْحُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُهُ وَمَا كَانُوا چھتیں بناتے تھے۔يَعْرِشُونَ وَجُوَزْنَا بِبَنِي إِسْرَاءِيلَ الْبَحْرَ فَأَتَوْا ۳۹۔اور ہم نے پار اور کنارے لگا دیا بنی اسرائیل عَلَى قَوْمٍ يَعْكُفُوْنَ عَلَى أَصْنَامٍ کو دریا کے تو وہ پہنچے ایسے لوگوں پر جو اپنے بتوں کے پوجنے میں لگ رہے تھے قوم نے کہا اے اورد قَالُوا يَمُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهَا كَمَا موسیٰ ! ہمارے لئے بھی ایک ( بت ) معبود بنا لَهُمْ أَلِهَةٌ قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمُ تَجْهَلُوْنَ دے جیسے ان کے معبود ہیں۔موسیٰ نے فرمایا تم لوگ تو نادانی کرتے ہو۔إِنَّ هَؤُلَاءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ وَ بَطِلٌّ مَّا ۱۴۰۔یہ بت پرست تو جس کام میں ہیں وہ كَانُوا يَعْمَلُونَ۔تباہ ہونے والا ہے اور جھوٹ اور باطل ہے یہ جو کر رہے ہیں۔(بقیہ حاشیہ) وَمَغَارِبَهَا۔اختلاف مطالع کی وجہ سے جمع کے لفظ اختیار فرمائے ہیں کیونکہ دنیا میں کسی شہر میں رات اور اُسی گھنٹوں میں کسی شہر میں دن اور اختلاف ارض و بلد کی حیثیت سے بھی اختلاف رہتے ہیں۔كَلِمَتُ۔وعدہ۔پیشگوئی۔اَلْحُسْنٰی۔بخوبی پوری ہوئی۔وَمَا كَانُوا يَعْرِشُونَ۔منڈوے، جھاڑ ، ٹیاں ، بلند چھتیں بناتے تھے۔آیت نمبر ۱۳۹۔وَجُوَزْنَا۔یعنی جب مصر سے بنی اسرائیل نکلے تو انہوں نے موسیٰ سے فرمائش کی کہ اجْعَلْ لَنَا إِلَهَا كَمَا لَهُمْ أَلِهَةً (الاعراف: ۱۳۹ )۔ہمارے لئے بھی ان کے جیسے ٹھا کر بنادے۔موسیٰ علیہ السلام نے قبح بت پرستی کی دلیل پیش فرمائی کہ قَالَ أَغَيْرَ اللهِ اَبْغِيْكُمْ إِلَهَا وَ هُوَ فَضَّلَكُمْ عَلَى الْعَلَمِينَ (الاعراف: ۱۴۱) یعنی کیا اللہ کے سوا کوئی اور ٹھا کر تجویز کر دوں اس نے تم کو سب سے اچھا بنایا تم مخدوم بن کر خادم کے خادم کیوں بنتے ہو؟ أَصْنَامٍ لَّهُمْ۔گاؤ مکھی بُت تھے۔