اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 341
قال الملا ۹ ۳۴۱ الاعراف ۷ قَالَ نَعَمْ وَ إِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ ۱۱۵۔فرعون نے کہا ہاں! اور تم ضرور میرے مقرب بن جاؤ گے۔قَالُوا يَمُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ ١١٦۔جادوگروں نے کہا اے موسیٰ! کیا تو رکھتا ہے یا ہم رکھیں۔نَّكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ قَالَ الْقُوْا فَلَمَّا الْقَوْا سَحَرُوا أَعْيُنَ - موسیٰ نے کہا تم ہی رکھو۔پھر جب انہوں النَّاسِ وَاسْتَرْهَبُوهُمْ وَجَاء وَ بِسِحْرٍ نے رکھا لوگوں کی آنکھوں کو دھو کے میں ڈال دیا اور ان کو ڈرایا اور بڑی دھوکا بازی کی۔* وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَلْقِ عَصَاكَ ۱۱۸۔اور ہم نے وحی کی موسیٰ کو کہ اپنا عصا رکھ فَإِذَا هِيَ تَلْقَفُ مَا يَأْفِكُوْنَ دے پس یکا یک وہ نگلنے لگا جو انہوں نے دھوکہ بنایا تھا۔فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا 11۔پس ثابت اور ظاہر ہو گیا حق اور نابود، غلط ہو گیا جو وہ کر رہے تھے۔يَعْمَلُونَ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانْقَلَبُوا صُغِرِينَ ۱۲۰۔پس ہار گئے اور مغلوب ہو گئے وہیں اور پھرے ذلیل اور رسوا ہوکر۔آیت نمبر ۱۱۶ - اما آن تلقی۔کیا تو ڈالے گا۔یہ ادب تھا جس سے وہ کامیاب اور عارف بن گئے ادب تا چیست از لطف الہی بنہ برسر برد هر جا کہ خواہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں اَلطَّرِيقَةُ كُلُّهَا اَدَبٌ آیت نمبر ۱۷۔قَالَ الْقُوا۔پہلا وار دشمن کا ہوا۔تحریر میں بھی پہلا پرچہ دشمن کا ہو۔کیونکہ شرع میں جنگ دفاعی ہے نہ ابتدائی۔وَجَاءَ وَ بِسِحْرِ عَظِيم - حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ سحر کے معنی بے حقیقت چیز کے ہیں اور اس کی سند اور دلیل يَأْفِكُون میں ہے۔آیت نمبر ۱۱۸۔تَلْقَفُ۔نگلنے لگا۔آیت نمبر ۱۲۰۔صغرِینَ۔ذلیل و نا مراد۔وَاتَّقی۔جذب الہی سے ڈر گئے۔