اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 340
قال الملا ۹ ۳۴۰ الاعراف ۷ قَالَ الْمَلَا مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ إِنَّ هَذَا ۱۱۔فرعون کی قوم کے رعب دار امراء نے کہا کہ بے شک یہ تو بڑا جاننے والا دھوکا باز جادوگر ہے۔لَسْحِرٌ عَلِيمٌ تُرِيدُ اَنْ تُخْرِجَكُمْ مِنْ اَرْضِكُمْ۔وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے اب تم کیا مشورہ دیتے ہو۔فَمَاذَا تَأْمُرُونَ قَالُوا اَرْجِهُ وَأَخَاهُ وَاَرْسِلْ فِي ١١٢۔انہوں نے جواب دیا کہ اس کو مہلت دو الْمَدَ ابنِ حُشِرِيْنَ يَأْتُوكَ بِكُلِّ سُحِرٍ عَلِيمٍ اور اس کے بھائی کو اور روانہ کرو پر گنوں میں نقیب متلاشی جمع کرنے والے۔۱۱۳۔کہ وہ لے آویں آپ کے پاس سب مشاق جادوگروں کو۔وَجَاءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوا إِنَّ لَنَا ۱۱۴۔اور آگئے جادوگر فرعون کے پاس اور کہنے لگے کہ ضرور ہمارے لئے انعام ٹھہرانا چاہئے لاجرًا إِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغُلِبِينَ جب ہم غالب ہو جائیں۔) (بقیہ حاشیہ) کے ہاتھ سے کفر کی ظلمت دور ہونے والی ہے۔جن الفاظوں میں قرآن مجید کا بیان آتا ہے اس پر ہمیں ایمان ہی نہیں بلکہ بتائید الہی عرفان حاصل ہے مگر خصیم کے لئے کلوخ انداز را پاداش سنگ است - علمی مذاق جو اس کو پسند ہوتا ہے بیان کیا جاتا ہے عَلى هذا جن آیتوں میں تطبیق بظاہر نہ معلوم ہو وہاں تاویل موافقه یا عام و خواص حسب موقع بیان ہونا چاہئے تا کہ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا (النساء : ۸۳) کا قاعدہ در حقیقت جیسا کہ ہے ثابت رہے اور ہماری کم علمی اور بے بضاعتی سے خلاف ثابت نہ ہو۔آیت نمبر ۱۱- نَسجِرٌ عَلِيمٌ۔دلر بابا تیں کرنے والا، قوم سے قطع تعلق کرنے والا ، با تیں بنانے والا۔آیت نمبر 1- يُرِيدُ اَنْ تُخْرِجَكُمْ مِنْ اَرْضِكُمْ۔یہ لوگ ہمیشہ انبیاء پر ایسا اتہام لگاتے ہیں جس سے عام ملک کو بھڑ کا دمیں خصوصاً پولیٹکل مجرم بنانا چاہتے ہیں۔یہی حال مسیح سے ہوا یہی مسیح موعود سے۔آیت نمبر ۱۱۲- في المَدَ آہن۔شہروں میں۔جمع مدینہ ہے۔آیت نمبر ۱۱۴۔اِنَّ لَنَا لَأَجْرًا۔یہ کفر کی حالت میں ہے ایمان کے بعد کیسی جرات ہوئی سُبحان اللہ !