اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 337
قال الملا ۹ لَعَلَّهُمْ يَضُرَّعُونَ ) ۳۳۷ الاعراف ۷ لیا تا کہ وہ لوگ گڑ گڑا ئیں اور عاجزی کریں۔ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ الشَّيْئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّى ٩٢۔پھر ہم نے سختی کی جگہ نیک بدلہ دیا یہاں عَفَوْا وَ قَالُوا قَدْ مَسَّ أَبَاءَنَا الضَّرَّآءِ تک کہ زیادہ ہو گئے اور بڑھ گئے اور یہ کہنے لگے کہ بے شک ہمارے باپ دادوں کو بھی دکھ سکھ وَالسَّرَّاءِ فَاخَذْنَهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا ہوتے رہے ہیں تو پھر ہم نے ان کو یکا یک پکڑ يَشْعُرُونَ لیا اور وہ کچھ شعور نہیں رکھتے تھے۔وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرى آمَنُوا وَاتَّقَوْا ۹۷۔اور اگر بستی والے اللہ کو مانتے اور اس کو سپر لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكَةٍ مِّنَ السَّمَاءِ بناتے تو ہم ضرور کھول دیتے ان پر آسمانی اور زمینی برکتیں لیکن انہوں نے جھٹلایا تو ہم نے ان کو پکڑ لیا وَالْأَرْضِ وَلَكِنْ كَذَّبُوا فَأَخَذْتُهُمْ بِمَا ان کر تو توں کے سبب جو وہ کرتے تھے۔كَانُوا يَكْسِبُونَ أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَى أَنْ يَأْتِيَهُمُ بَأْسُنَا ۹۸ تو کیا محفوظ ہو گئے بستیوں والے کہ ان پر (بقیہ حاشیہ ) آتے ہیں (۲) بأساء، ضَرَّاء - رنج ، تنگ دستی، بیماری قحط وغیرہ۔جھگڑے(۳) بیماریٹئیں اور قحط وغیرہ کیوں آتے ہیں علی الخصوص ماموروں کے ساتھ (۱) اس لئے کہ دنیا کی بے ثباتی کو مد نظر رکھیں (۲) مامور من اللہ مدعی ہو کر بھی بچ جائے (۳) لوگوں کو بخوبی معلوم ہو جائے کہ انسانی تدبیریں مصائب میں کام نہیں آتیں تو عبرت پکڑیں اور رجوع الی اللہ کریں۔چنانچہ ہمارے زمانہ میں مسیح آخرالزمان کی شناخت کے لئے سخت قحط اور طاعون اور زلزلے اور قتل ، جنگ ، ملک ہندوستان میں پھیلا اور ان گنت موتیں ہوئیں اور ہورہی ہیں۔آیت نمبر ۹۶ - مَكَانَ۔بمعنی جائے۔السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ۔ہر ایک دکھ اور بری بات سینۃ کہلاتی ہے اور ہر ایک اچھی بات اور مرغوب عقل حَسَنَة - عَفَوا۔آزاد ہو گئے۔گناہ اور بدی اگر راست آ جائے تو بہت بُرا ہے۔آسودگی کے ساتھ تکبر ظلم۔تحقیر وغیرہ گناہ آ جاتے ہیں۔آیت نمبر ۹۷۔وَاتَّقَوْا۔یعنی مجرموں کو ہلاک ہوتے دیکھ کر گناہوں سے بچتے۔بَرَكَةٍ مِّنَ السَّمَاءِ - یعنی انہیں الہام ہوتے اور وہ ملک میں نہ دیتے۔