اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 328 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 328

ولواننا ۸ ۳۲۸ الاعراف ۷ اُدْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ ۵۶ - تمہارے رب کو پکارو بڑی عاجزی سے گڑ گڑا کر اور چپکے چپکے اس کو پسند نہیں آتے حد لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ® سے بڑھنے والے لے۔وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۵۷۔اور نہ فساد کرو ملک میں اس کی درستی کے وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا إِنَّ رَحْمَتَ اللهِ بعد اور اللہ کو پکارتے رہو ڈر ڈر کر اور امیدیں رکھ رکھ کر۔کچھ شک نہیں کہ اللہ کی رحمت قریب قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ہے محسنوں سے۔۔۔وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِيحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَى ۵۸۔وہی اللہ ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں خوشخبری لانے والی اس کی رحمت کی آگے آگے یہاں رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا تک کہ جب اٹھا لاتی ہیں بوجھ دار بادلوں کو سُقْنهُ لِبَلَدٍ مَّيْتٍ فَأَنْزَلْنَا بِهِ الْمَاء ہوا ئیں تو ہم اُسے ہانک دیتے ہیں مردہ شہر کی لے دعائیں مانگو عذاب سے ڈرتے رہو۔نہ نا امید ہوتا کہ معتدین نہ ہو۔آیت نمبر ۵۶۔اُدْعُوا۔زمانہ بڑی جہالت کا ہے۔کوئی خدا کا منکر ہے اور کوئی اُس کے تصرف کے قائل نہیں۔بعض دعا کے قائل نہیں۔بعض دعا کے قائل مگر اسباب پرستی میں مشغول۔پس صادق کو چاہئے کہ کامل اُمید، کامل یقین، کامل مجاہدہ سے دعا میں لگا رہے تا کہ گھٹا ٹوپ اندھیرے دور ہوں اور لفظ ربّ کا بہت استعمال کرے۔لیٹے ، بیٹھے ہوئے ہر حال میں دعائیں کرتے رہے۔تَضَرُّعًا - دعائیں مانگو۔عذاب سے ڈرتے رہو۔نہ دلیر بنو نہ نا امید ہو۔لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ - چلا چلا کر دعائیں نہ کرو۔قرآن و حدیث کے خلاف نہ کرو۔طالب محال نہ ہو۔رشتہ داروں کے خلاف نہ ہو۔آیت نمبر ۵۸- يُرسل الريح۔یہ ضرورت الہام پر ایک دلیل ہے کہ سماوی پانی کے بغیر جسمانی حالت میں خرابی آجاتی ہے اور روحانیت میں کیوں الہام کے بغیر خرابی نہ آئے اور جیسا سماوی بارش سے زمین کے مختلف حالات ہوتے ہیں کہیں مفید پودا کہیں مضر کہیں کچھ بھی نہیں۔ویسا ہی نزول وحی کے بعد ہوتا ہے۔اکثر طبائع میں انقلاب آ جاتا ہے۔شریف شرافت میں اور شریر شرارت میں بڑھ جاتے ہیں۔اقلت۔اٹھاتی ہیں۔