اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 324 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 324

ولواننا ۸ ۳۲۴ الاعراف ۷ نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا أُوليك تو ہم زیادہ بوجھ نہیں ڈالتے مگر اس کی طاقت أصْحَبُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَلِدُونَ کے موافق یہی لوگ جنتی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلَّ تَجْرِى ۴۴۔اور نکال لی ہے ہم نے ان کے دلوں میں مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهرُ ۚ وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ سے جو کچھ رنجش تھی۔بہہ رہی ہیں ان کے نیچے نہریں سب اللہ ہی کی حمد ہے جس نے ہم کو الَّذِي هَدْنَا لِهَذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِي یہاں پہنچا دیا اور ہم تو نہ تھے راہ پانے والے کسی لَوْلَا أَنْ هَدَنَا اللهُ لَقَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبَّنَا طرح اگر اللہ ہم کو یہاں نہ پہنچاتا بے شک ہمارے رب کے رسول ہمارے پاس آئے بچ بِالْحَقِّ وَنُوْدُوا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اور حق کے ساتھ اور ندا کی جائے گی یہ وہ جنت أو رِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ہے جس کے تم وارث ہوئے ان نیک اعمال کے سبب سے جو تم کرتے تھے۔وَنَادَى أَصْحَبُ الْجَنَّةِ أَصْحَبَ النَّارِ آن ۴۵۔اور جنتی لوگ پکاریں گے دوزخیوں کو کہ بے شک ہم نے تو سچا پایا وہ وعدہ جو ہمارے رب نے ہم سے کیا تھا کیا تم نے بھی وہ وعدہ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا قَالُوا نَعَمْ سچا پایا جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا۔وہ آیت نمبر ۴۴۔خل۔کھوٹ۔جوش۔بدی۔حسد۔کینہ۔قَالُوا الْحَمْدُ لِلهِ۔یہ کامیابی کے وقت کہیں گے۔وَنُودُوا۔بہشتیوں کو پکارا جائے گا (۱) یہاں ایک سوال ہے کہ نجات فضل سے ہے یا عمل سے یا صرف ایمان سے۔الجواب۔پہلے ایمان ہو پھر عمل پھر فضل اس کے مجموعہ پر نجات موقوف ہے چنانچہ قرآن شریف میں قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ ايَرِثُونَ الْفِرْدَوْسَ (المؤمنون: ۲ تا ۲۱ ) اور الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ (فاطر: ۳۶،۳۵) آیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمل سے مومن جنت میں داخل ہوں گے۔وہ کہیں گے فضل سے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی قدر کرے گا اور مومنین کی حقیقت پر نظر ہوگی کہ جو کچھ ہوا اُس کی طاقت اور توفیق سے ہوا یا یوں کہو کہ اعمال فضل کے جاذب ہیں یا فضل سے عمل کی توفیق ملی۔