اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 314
ولواننا ۸ ۳۱۴ الاعراف ۷ و سُوْرَةُ الْاعْرَافِ مَكِيَّةٌ وَ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَتَانِ وَسَبْعُ آيَاتٍ وَّاَرْبَعَةٌ وَ عِشْرُونَ رُكُوعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ به عظمت نام اللہ تعالیٰ کے جو رحمن الرحیم ہے اُسی کے نام سے پڑھنا شروع کیا جاتا ہے۔المصري ۲۔میں ہوں اللہ بہت جاننے والا صادق۔كِتُبُ أُنْزِلَ إِلَيْكَ فَلَا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ - - یہ صادق کی کتاب ہے جو تیری طرف نازل حَرَجٌ مِنْهُ لِتُنْذِرَ بِهِ وَ ذِكْری کی ہے تیرے سینہ میں کوئی تنگی نہ ہو تا کہ تو اس کتاب کے ذریعہ ڈرائے اور کچھ نصیحت بھی ہے مومنوں کے لئے۔لِلْمُؤْمِنِينَ اتَّبِعُوا مَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ مِنْ رَّبِّكُمْ وَلَا ا تم اتباع کرو اس کتاب کی جو تمہارے رب کی تَتَّبِعُوا مِنْ دُونِةٍ أَوْلِيَاءَ قَلِيلًا مَّا طرف سے تمہاری طرف نازل ہوئی اور اللہ کے سوائے کوئی تمہارا ولی نہ ہو جس کی اتباع کرو مگر تم ط لوگ کم ہی نصیحت سنتے (اور اتباع کرتے ) ہو۔تَذَكَّرُونَ وَكَمْ مِنْ قَرْيَةِ أَهْلَكْنُهَا فَجَاءَهَا بَأْسُنَا ۵ کتنی بستیاں ہم نے تباہ کیں جب کہ ہمارا عذاب آیا رات کو یا دو پہر کو جب کہ وہ آرام بَيَاتًا أَوْ هُمْ قَابِلُونَ کرتی تھیں۔تمہید۔اس سورۃ میں نظائر کے ذریعہ دلائل نبوت دیئے ہیں اور اس سورۃ شریف کا نام التمص ہے کیونکہ قوم کو ننگے طواف کرنے سے روکنے کی تمہید ہے اور کس خوش اسلوبی سے نصیحت فرمائی گئی ہے اس سے ناصحین کو طرزِ نصیحت سیکھنا چاہئے۔آیت نمبر ۲ - المص۔میں اللہ ہوں بڑا جاننے والا صادق۔افضل - اصْوَر - آیت نمبر ۳۔اُنْزِلَ۔بھیجی گئی۔اتاری گئی۔حَرَجٌ - أَى حَرَجٌ فِی التَّبلیغ قدیم یا جدید رسم کو اٹھانا اور موقوف کر دینا وہ بھی مکہ کے جیسے مقام میں جہاں رسم کے طور پر سب پابندی ہو رہی ہے خصوصاً بے دست و پائی کے حال میں کسی بے چینی کا موجب نہ ہوگا۔لِتُنْذِرَ بِہ۔یعنی پیشگوئیاں کرے۔دنیا آخرت کے عذاب سے ڈرائے۔آیت نمبر ہ۔قَابِلُونَ۔قیلولہ کرتے تھے۔