اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 25
۲۵ البقرة ٢ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لَا ذَلُولُ تُثِيرُ ۲۔موسیٰ نے کہا بے شک اللہ فرماتا ہے وہ گائے الْأَرْضَ وَلَا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لَّا ایسی ہے جس سے کوئی محنت نہیں لی جاتی زمین میں ہل جو تنے کی اور نہ اس سے کھیتی کو پانی ہی دیا شِيَةَ فِيهَا قَالُوا الن جِثْتَ بِالْحَقِّ جاتا ہے موٹی تازی صحیح سلامت بے داغ گائے فَذَبَحُوْهَا وَمَا كَادُوا يَفْعَلُوْنَ بچ ہے۔بول اٹھے کہ (ہاں) اب تو حق و ہدایت لے کر آیا پس انہوں نے اس گائے کو ذبح تو کیا گودل سے اس کو ذبح کرنا نہ چاہتے تھے۔وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَاذْرَعْتُمْ فِيهَا ۖ وَاللَّهُه ۷۳۔اور جب تم نے مارا نفس کو پس تم نے اُس میں ایک سخت احتیاط چھپانے کی کی اور اللہ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ ® ظاہر کر دینے والا ہے چھپی ہوئی باتوں کو جو تم نہیں جانتے یا سخت چھپاتے ہو۔فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذلِكَ يُحْي الله ۴۔پس ہم نے یہ حکم دیا ہے کہ بعض کو بعض کے ساتھ مارو قاتل کو قتل کرواسی طرح اللہ تعالیٰ زندہ کیا الْمَوْتُى وَيُرِيْكُمُ ايْتِهِ لَعَلَّكُمْ کرتا ہے مُردوں کو ے اور اپنی نشانی تم کو دکھایا کرتا ہے۔ترجمہء دیگر۔یا ایک نور اور روشنی پائی۔ہے تا کہ تم عقل سیکھو۔وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ - وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَوةٌ کے قاعدہ سے کتنے قتل ہو نیوالے بچ گئے۔آیت نمبر ۷۳ - وَإِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا۔ایک یہودی نے ایک مسلم عورت کو مار دیا۔وہ قریب الموت حالت میں بتا گئی کہ اس کا قاتل کون تھا۔پس حکم ہوا اس کو مار دو ( شرح قدیم ) جو مشہور ہے کہ گائے کا ٹکڑا مارنے سے مقتول زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتا گیا تھا۔اس کے ماننے سے ہمیں کوئی حرج نہیں مگر تاریخی کوئی شہادت نہیں ملتی۔ہمارے معظم دوست فرماتے ہیں کہ اس سے مراد قتل عیسیٰ علیہ السلام ہے جس کی براءت اللہ نے ظاہر فرما دی۔ہمارے مرشد حضرت محمود احمد فرماتے ہیں کہ اس سے مراد کعب بن اشرف ہے جو شریر فسادی یہودی تھا ( شرح جدید )۔آیت نمبر ۷۴ - اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا۔یعنی ایک قاتل ہے وہی قتل کیا جائے گا یا معلوم نہیں کئی بار جرم کر چکا ہے اب کے پکڑا گیا (۲) یعنی قصاص لو یا اگر حرص بے جا ہو تو قناعت اختیا ر کر و۔غضب بھڑ کے تو حلم و نرمی سے مقابلہ کرو۔