اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 312
ولواننا ۸ ۳۱۲ الانعام ٦ وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزَى إِلَّا اُس کا دس درجہ بڑھ کر فائدہ ہے اور جو برائی لے کر آئے تو اس کو اتنی ہی سزا ملے گی اور ان پر مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ کچھ بھی ظلم نہ ہوگا۔اِنَّنِي هَدْنِى رَبِّي إِلَى صِرَاطٍ ۱۶۲۔تو کہہ دے مجھ کو تو راہ راست دکھا دی ہے مُّسْتَقِيمٍ دِيْنًا قِيَمًا مِلَّةَ إِبْرَهِيمَ میرے رب نے سیدھی راہ ، صحیح دین ابراہیم کا مذہب ہے جو سب سے الگ ہو کر اکیلا اللہ کا حَنِيفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ہو رہا تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي ۱۶۳۔تو کہہ دے میری نماز اور عبادت اور میرا جینا لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اور مرنا سب اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کو آہستہ آہستہ کمال کی طرف پہنچانے والا ہے۔لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَول ۱۶۴۔کوئی اس کے برابر کا نہیں اور مجھے یہی حکم ہوا أَوَّلُ ہے کہ میں اسے ایک ہی مانوں اور سمجھوں اور میں سب سے پہلا اعلیٰ درجہ کا فرمانبردار فدائی ہوں۔الْمُسْلِمِينَ (بقیہ حاشیہ) مثلوں کو کیسے سمجھیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے جو نیکی کا اجر مقرر فرمایا ہے وہ تھوڑا ہو یا بہت یا کم ہو یا زیادہ اپنے ہی علم کے لحاظ سے اس کو مقرر فرمایا۔الجواب۔یہ قاعدہ اہل اسلام کے لئے پہلی قوموں کے اجور کے مقابلہ میں قرار دیا گیا ہے کہ ان کو جو ترقی ملتی تھی اسی کام پر اس امت میں بڑھ کر ترقی ملے گی جیسے کہ مسلمانوں کی سلطنت اور علم اور صلاحیت اور کثرت اولیاء یہ بنی اسرائیل کے مقابلہ میں بے شک عَشْرُ أَمْثَالِہا ہے۔وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ظلم تو اللہ پاک کے یہاں ہے ہی نہیں۔فرضی تقدیر اور جبر اختیاری و مزعوم پر عوام کی نظر ہے۔آیت نمبر ۱۶۲۔قُلْ إِنَّنِي هَدينى رَبَّى - یہ اس ضرورت کا پورا کرنا ہے جو طالب حق کو پہلی اُمتوں کا اختلاف دیکھ کر پیش ہوئی کہ سب تفرقہ مٹا کر اصل الاصول رأس الرئیس کی طرف متوجہ کیا جیسا کہ اس وقت امت کا افتراق ایک مصلح کا محتاج ہوا اس نے فیج اعوج کا زمانہ حذف کر کر اصل دین نبی کریم اور صحابہ کا پیش کیا اور آخرین کو اولین میں داخل کیا۔دِينًا قِيَما - دین طریقہ حلقہ اور مضبوط راہ ہے۔آیت نمبر ۱۶۴ - وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ۔یعنی میں اول نمبر کا پہلا فرمانبردار فدائی ہوں۔