اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 309 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 309

ولواننا ۸ ۳۰۹ الانعام ٦ وُسْعَهَا وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا مگر اس کی طاقت کے موافق اور جب بات کہو تو قُرْبى ۚ وَبِعَهْدِ اللَّهِ اَوْقُوا ذَلِكُمْ وَقُكُمْ سچ کہو اگر چہ وہ اپنا قرابت دار ہی ہو اور اللہ کا بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيْلِهِ b اقرار پورا کرو ، اس بات کی وصیت کرتا ہے تم کو اللہ تا کہ تم (بڑے آدمی ہو جاؤ) یا دکرلو۔وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِئُ مُسْتَقِيمَا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا ۱۵۴۔اور یہ کہ یہی میری سیدھی راہ ہے تو اس پر چلو اور نہ چلو دوسرے رستوں پر کہ وہ تم کو ادھر اُدھر کر دیں گے اللہ کی راہ سے۔اس بات کی ذلِكُمْ وَقُكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ وصیت کرتا ہے تم کو اللہ تا کہ تم دکھوں سے بچو۔ثُمَّ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ تَمَا مَّا عَلَى الَّذِی ۱۵۵ - پھر دی ہم نے موسیٰ کو کتاب پوری ، نیک أَحْسَنَ وَتَفْصِيلَا لِكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى کام کرنے والوں کے لئے اور تفصیل اور بیان ہر ایک چیز کا اور ہدایت اور رحمت تا کہ وہ لوگ وَرَحْمَةٌ لَعَلَّهُمْ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ يُؤْمِنُونَ تم اپنے رب کے ملنے کو مانیں۔(بقیہ حاشیہ) کا یہ خیال ہے کہ پوری ایمانداری سے کام نہیں چلتا کچھ کم و بیش ہو ہی جاتا ہے۔جواب ارشاد ہوتا ہے ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے مگر اس کے اندازہ سے۔وَبِعَهْدِ اللهِ أَوْفُوا۔یعنی شریعت الہی کی پابندی کرو۔لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ۔دوسرا درجہ طبی و تجربہ کے رنگ کا ہے۔آیت نمبر ۱۵۴ - وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ - لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنکبوت: ۷۰) سے اختلاف نہیں کیونکہ قَدْ تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقرۃ: ۲۵۷) کا ایمان آ گیا ہے۔ذلِكُمْ وَقُكُمْ ہے۔سیدھی راہ پر چلنے سے کیا فائدہ ہوگا اور اس کی وصیت کیوں کی جاتی ہے؟ جواب ارشاد ہوا کہ تم دکھوں سے بچو متقی بنو۔لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ۔تیسرا درجہ شرعی و اخلاقی رنگ کا ہے جو جامع ہے سب کا۔آیت نمبر ۱۵۵ - ثُمَّ أَتَيْنَا مُوسَى الْكِتَبَ - قسم کبھی ترتیب اور ترقی کے لئے ہوتا ہے اور کبھی قسم بمعنی وا والعطف ہوتا ہے جیسے یہاں ہے یعنی پھر یا اور۔دی ہم نے موسیٰ کو کتاب۔عَلَى الَّذِى اَحْسَنَ۔اس بات کے بدلہ میں کہ وہ محسن بنا، یا نیک کام کیا۔