اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 303 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 303

ولواننا ۸ الانعام ٦ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ تَكُونُ لَهُ اور کوشش کے موافق اپنی جگہ کام کرو میں بھی کرتا ہوں ، تو آگے چل کر تم کو معلوم ہو جائے گا کہ عَاقِبَةُ الدَّارِ اِنَّهُ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُونَ ) کس کے لئے ہے انجام کا گھر ، بے شک تمہارا رب نہال اور با مراد نہیں کرتا ظالموں کو۔وَجَعَلُو اللَّهِ مَاذَرَا مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ ۱۳۷۔اور یہ ٹھہراتے ہیں اللہ کا اس کی پیدا کی نَصِيبًا فَقَالُوا هَذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَذَا ہوئی کھیتی اور نادان چارپایوں میں سے ایک حصہ پھر کہتے ہیں یہ تو اللہ کا ہے اُن کے خیال کے لِشُرَكَابِنَا ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَا بِهِمْ فَلَا موافق اور یہ (دوسرا حصہ) ہمارے شریکوں کا يَصِلُ إِلَى اللهِ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ ہے تو جو اُن کے شریکوں کا ہوتا ہے تو وہ اللہ کو نہیں مل سکتا اور جو اللہ کا ہے تو ان کے شریکوں کو إلى شُرَكَا بِهِمْ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ مل سکتا ہے۔کیا بُرا حکم اور فیصلہ کرتے ہیں۔وَكَذَلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ ۱۳۸۔اور اسی طرح پسند کرا دیا ہے بہت مشرکوں کو اپنے بچوں کا مارڈالنا اُن کے شریکوں نے تاکہ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَا وَهُمْ لِيُرْدُوهُمْ ان کو ہلاک کریں اور گڑ بڑ کر دیں اُن پر اُن کا وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِيْنَهُمْ وَلَوْ شَاءَ اللهُ دین۔اور اگر اللہ نے چاہا ہوتا تو وہ یہ نہ کرتے مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُوْنَ ) تو چھوڑ دے اُن کو اور اُن کے افتراؤں کو۔وَقَالُوا هَذِةٍ أَنْعَام وَ حَرْتُ حِجْرٌ لا ۱۳۹۔اور کہتے ہیں یہ چوپائے اور کھیتی اچھوتی يَطْعَمُهَا إِلَّا مَنْ نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمُ ہے اس کو کوئی نہ کھائے مگر جسے ہم چاہیں اپنے آیت نمبر ١٣٧ - هذَا لِشُرَكَا بِنَا۔یعنی جن کو ہم نے اللہ کے برابر سمجھ رکھا ہے۔دلائل مسئلہ تقدیر جس کی تمہید رکوع اول سے رکوع ششم تک بیان کئے گئے ہیں غور سے پڑھنے چاہئیں اور متشابہات کو محکمات کے تحت میں کر لیا جائے۔آیت نمبر ۱۳۸ - زَيَّنَ لِكَثِيرِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ۔یہ ناستک مذہب کا رڈ ہے۔جن کے ہاں قتل اولاد اور آدمیوں کا گوشت کھانا جائز ہے اور کوئی گناہ گناہ نہیں۔آیت نمبر ۱۳۹ - إِلَّا مَنْ نَّشَاءُ۔یعنی کھانے والے خاص خاص ہیں۔یہ ایجاد خاص ہے جس میں تقدیر اور شرک کا اظہار ہے۔