اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 300 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 300

ولواننا ۸ الانعام ٦ نُؤْتَى مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ اللهُ اَعْلَمُ آ جاتی ہے وہ کہنے لگتے ہیں ہم تو ہرگز نہ مانیں حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ سَيُصِيبُ الَّذِينَ گے جب تک کہ ہم کو نہ مل جائے وہ جو اللہ۔کے رسولوں کو ملا۔اور اللہ خوب جانتا ہے کہ أَجْرَ مُوا صَغَارُ عِنْدَ اللهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ کہاں اپنی رسالت رکھنی چاہئے قریب ہی پہنچے گی جناب الہی سے قطع تعلق کرنے والوں کو ذلّت اللہ کے یہاں کی اور بڑا سخت عذاب بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ (۱۳۵) اس وجہ سے کہ وہ بُری تدبیریں کرتے تھے۔فَمَنْ يُرِدِ اللهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ ١٢٦۔اللہ جس کو چاہتا ہے کہ ہدایت کرے تو لِلْإِسْلَامِ وَمَنْ يُرِدُ انْ يُضِلَّهُ يَجْعَلُ اُس کا سینہ کھول دیتا ہے اسلام کے لئے لے اور وہ ۚ جس کو چاہتا ہے کہ ہٹا دے تو اس کا سینہ بہت ہی صَدْرَهُ ضَيِّقًا حَرَجًا كَأَنَّمَا يَضَعُدُ فِي تنگ کر دیتا ہے گویا وہ سینہ زوری سے چڑھتا ہے السَّمَاءِ كَذلِكَ يَجْعَلُ اللهُ الرِّجْسَ عَلَى بلندی پر۔اسی طرح اللہ ڈالے گا وبا اور طاعون ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے۔الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ وَهُذَا صِرَاط رَبِّكَ مُسْتَقِيمَا قَدْ فَصَّلْنَا ۱۲۷۔اور یہی تمہارے رب کی راہ ہے سیدھی اور تحقیق کہ ہم مفصل بیان کر چکے آیتیں اُن لوگوں الْآيَتِ لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ لے یعنی فدائی بننے کے لئے۔کے لئے جو یاد کرتے ہیں۔آیت نمبر ۱۲۵۔مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللهِ - مشترک نشان سب رسولوں میں اخیر فتح یابی ہے اور الہام و برکات وغیرہ۔آیت نمبر ۱۲۶ - الرّجسَ - کفر - پلیدی - لعنت۔جہالت۔بدکاری۔ضد و ہٹ دھرمی۔عَلَى الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُوْنَ - اضلال لَا يُؤْمِنُون والوں کو ہوتا ہے۔آیت نمبر ۱۲۷ - لِقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ - یعنی يَتَذَكَّرُونَ اَمْرِى احکام الہی کے ماننے کا فائدہ یہ ہے کہ دنیا میں، قبر میں ، پل صراط میں ، جنت میں غرض سب جگہ سلامتی کا گھر ملتا ہے اخیر اُس کا والی ہو جاتا ہے پھر مومن بتدریج ظلمت سے بآسانی نکل جاتا ہے۔ظلمات کئی اقسام کی ہیں (۱) ظلمت جہل (۲) ظلمت رسم (۳) ظلمتِ حُبّ و بغض (۴) ظلمت افلاس و تنگ دستی و دولت - (۵) ظلمت مجلس (۶) ظلمت شرک۔جیسے نصاری کی حالت ہے ( ۷ ) ظلمت ریا و بداخلاقی و کم اخلاصی وغیرہ۔