اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 298 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 298

ولواننا ۸ ۲۹۸ الانعام ٦ وَإِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْأَرْضِ ا۔اور اگر تو اکثر دنیا کے لوگوں کا کہا مانے گا تو يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ إِنْ يَتَّبِعُونَ تجھے بہکا دیں گے اللہ کی راہ سے وہ تو فقط خیال ہی پر چلتے ہیں اور انکل بازی ہی کرتے ہیں۔إِلَّا الظَّنَّ وَ إِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُصُوْنَ ) اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ يَضِلُّ عَنْ ۱۱۸۔کچھ شک نہیں تیرا رب ہی ان کو خوب جانتا سَبِيْلِهِ ۚ وَهُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ہے جو اس کی راہ سے بھٹک جاتے ہیں اور وہی ان کو بھی خوب جانتا ہے جو راہِ راست پر ہیں۔فَكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ اِنْ 119۔تو تم اس میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا كُنتُمْ بِايْتِهِ مُؤْمِنِينَ۔گیا ہو جب تم اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو۔وَمَالَكُمْ الَّا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ ۱۲۰۔اور تمہیں کیا ہوا ہے کہ تم نہ کھاؤ اس چیز عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ سے جس پر اللہ کا نام لیا جاوے اور اللہ تم سے مفصل بیان کر چکا ہے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے مگر إِلَّا مَا اضْطَرِرْتُمْ إِلَيْهِ وَإِنَّ كَثِيرًا جس وقت بے بس ہو جاؤ اس کی طرف اور بہت ليُضِلُّونَ بِأَهْوَابِهِمُ بِغَيْرِ عِلْمٍ إِنَّ سے لوگ بہکاتے رہتے ہیں اپنی گری ہوئی خواہشوں پر نادانی سے۔بے شک تیرا پروردگار رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِينَ ط حد سے گزرنے والوں کو بخوبی جانتا ہے۔وَذَرُوا ظَاهِرَ الْإِثْمِ وَبَاطِنَه ۱۲۱۔اور چھوڑ دو ظاہر کا گناہ اور باطن کا جو لوگ ۱۲۱۔آیت نمبر ۱۷۔وَاِنْ تُطِعْ - مامور کے مقابلہ میں جمہور اور عام اقوال قابل سماعت نہیں۔إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ - جس اِن کے بعد إِلَّا آتا ہے اس کے معنی کا کے ہوتے ہیں۔وَإِنْ هُمْ إِلَّا يَخْرُ صُونَ۔انکل بازی سے بدی و نیکی کی تشریح جو کرتے ہیں وہ محض غلط ہوتی ہے۔آیت نمبر ۱۲۰۔وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ۔قرآن مجید مُفصل ہے۔مُجمل کہنے والے غور کریں۔آیت نمبر ۱۲۱ - وَذَرُوا ظَاهِرَ الْاِثْمِ - ظاہری گناہ مثلاً چوری۔بدی۔جھوٹ۔لڑائی جھگڑا وغیرہ نفس امارہ کا فعل وقول وَبَاطِنَهُ باطنی گناہ۔کینہ بغض - حسد - تکبر - حرص۔نفاق نفس لوامہ کے افعال اقوال اور کسی آدمی وغیرہ کو بادشاہ وزیر کی مثال دینا خدا کے ساتھ غلط ہے۔ہاں سیڑھی کی دے سکتے تھے مگر اللہ تو ا قرب سے اقرب ہے پھر دل سے ایسی باتیں بنانا کیا معنی؟