اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 296 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 296

ولواننا ۸ ۲۹۶ الانعام ٦ ط فَيَسُبُّوا الله عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذَلِكَ پکارتے ہیں کہیں وہ بُرا کہ بیٹھیں گے اللہ کو دشمنی زَيَّنَّا لِكُلِّ أُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ إِلَى رَبِّهِمْ سے بے جانے بوجھے اسی طرح ہم نے پسند کر رْجِعُهُمْ فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ دیئے ہیں ہر ایک جماعت کو اُن کے کام پھر اُن کو ان کے رب کی طرف پلٹنا ہے تو وہ ان کو خبر دار کر دے گا اس سے جو وہ کرتے تھے۔وَ اَقْسَمُوْا بِاللهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَبِن 110۔اور وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں سخت سخت جَاءَتُهُمْ آيَةٌ لَيُؤْمِنُنَّ بِهَا قُلْ إِنَّمَا قسمیں کہ اگر اُن کے سامنے کوئی نشان ظاہر ہوتا تو وہ ضرور ضرور اس پر ایمان لاتے تم کہہ دو نشانیاں الأيتُ عِنْدَ اللَّهِ وَمَا يُشْعِرُكُمْ أَنَّهَا إِذَا تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تمہیں کیا شعور کہ جب جَاءَتْ لَا يُؤْمِنُونَ وہ نشانیاں آجائیں تو بھی وہ نہ مانیں گے۔وَنُقَلِبُ افْدَتَهُمْ وَأَبْصَارَهُمْ كَمَالَمُ۔اور ہم ان کے دل الٹ دیں گے اور آنکھیں ، کیونکہ وہ قرآن کو مانتے ہی نہ تھے يُؤْمِنُوا بِةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ وَنَذَرْهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ پہلے سے اور ہم ان کو رہنے دیں گے وہ اپنے بھترے اور سرکشی میں دل کے اندھے ہی رہیں گے سرگشتہ و پریشان۔ولواننا نزلنا إليهم التليكة ۱۱۲ اور اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے وَكَلَّمَهُمُ الْمَوْلَى وَحَشَرْنَا عَلَيْهِمْ كُلَّ شَيْءٍ مُردے باتیں کرنے لگتے اور ان کے سامنے ہم سب چیزیں اکٹھی کر لاتے تو وہ جب بھی ایمان قبلًا مَّا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا إِلَّا أَنْ يَشَاء الله نہ لاتے مگر یہ کہ اللہ ہی چاہتا تو لیکن وہ تو اکثر وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ يَجْهَلُونَ نادان ہی ہیں۔(بقیہ حاشیہ) كَذلِكَ زَيَّنا۔یعنی ہر ایک کو بخوبی سمجھا دیئے ہیں جو جو کام کرنے کے ہیں اور جوان کے نتیجے ہوں گے۔فَيُنَبِّتُهُمْ بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ۔یعنی خدا کے پاس جا کر وہ اپنی جزا آپ پالیں گے اور غلطیوں کا اقرار کر لیں گے۔آیت نمبر ۱۱- قُلْ اِنَّمَا الْأيْتُ عِنْدَ اللهِ - منکر ان معجزات کا جواب ہے یعنی میرے رب کے پاس بہت معجزات ہیں۔میں کیوں نہ دکھاؤں گا اور نشانات عطاء الہی ہوتے ہیں، فرمائشی نہیں ہوتے۔آیت نمبر ۱۱۲- يَجْهَلُونَ۔نادان آدمی اُلٹی تجویزیں سوچتا ہے جو غیر مفید ہوتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ راہ ہدایت