اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 23
الخسِرِينَ ۲۳ البقرة ٢ دست گیری نہ کی ہوتی تو تم ضرور نقصان پانے والے ہوتے۔وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي ٢٦۔بے شک تم تو جانتے ہی ہوان کو جنہوں نے آرام اور سکھ کے دن میں خلاف حکم الہی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خَبِينَ زیادتیاں کیں تو ہم نے ان کو کہہ دیا کہ تم ہو جاؤ خفیف العقل بندر ذلیل۔فَجَعَلْنَهَا نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَها ۶۷۔پھر ہم نے اس نافرمان جماعت کو موجودہ اور آگے آنے والے لوگوں کے لئے عبرت کا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ مقام بنا دیا اور اللہ سے ڈرنے والوں کے واسطے بڑی نصیحت کا موجب ہوا۔وَ إِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِةٍ إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ ۲۸۔اور یہ کیفیت بھی یاد کرو کہ جب موسیٰ نے اپنی اَنْ تَذْبَحُوا بَقَرَةً قَالُوا اَتَتَّخِذُنَا قوم سے کہا اے میری قوم ! تم کو تحقیق اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم ایک گائے ذبح کرو۔قوم نے جواب هُزُوًا قَالَ اَعُوْذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ دیا، اے موسیٰ! کیا تم ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے موسیٰ نے آیت نمبر ۶۶ - قِرَدَةً خُسِنینَ۔اس سے مراد یہ نہیں کہ ان کی تبدیل نوع ہوگئی تھی بلکہ تبدیل روحانیت اور ان کی ذلت کی طرف اشارہ ہے کہ جیسے ذلیل بندر دوسرے کے نچانے سے ناچتا ہے ویسے ہی یہ یہودی محروم عزت جسمانیہ اور روحانیہ سے کئے گئے۔اس کا مفصل بیان مائدہ رکوع ۸ میں اور پارہ ۹ رکوع ۱۱ میں موجود ہے۔آیت نمبر ۶۸ - تذْبَحُوا بَقَرَةً۔گائے کی پرستش ہو رہی تھی ، فرعون وغیرہ گائے کی پوجا کر رہے تھے اس لئے ایک خاص گائے کے ذبح کا حکم ہوا۔بطور اعلائے کلمۃ اللہ کے۔کیونکہ قو میں، اگر ان کی منظور ہ اور معبودہ چیزوں کو خلاف مرضی ان کے چھیڑا نہ جائے تو وہ کبھی بیدار نہیں ہوتیں اور نہ مقابلہ وتحقیق کرتی ہیں اور امور رسمیہ اور معتقدہ میں سے ہے کہ بعض چیزیں رسوم مذهبیہ میں بہت ہی سخت اور ہم کبھی جاتی ہیں۔حالانکہ دوسرے گناہ اس سے بدتر بھی ہوتے ہیں۔مثلاً اگر مسلمان سے کہا جائے کہ تو قاتل ہے تو وہ اتنا بُر انہیں مانے گا جتنا کہ اس سے کہا جائے کہ تو سو رکھانے والا ہے۔على هذا ہندو کو اگر کہا جائے کہ تو چور ہے تو اتنابر انہیں منائے گا