اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 290 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 290

واذا سمعوا ٧ ۲۹۰ الانعام ٦ انْزَلَ اللهُ عَلى بَشَرِ مِنْ شَيْءٍ قُلْ مَنْ اللہ نے کسی آدمی پر کچھ نہیں اتارا پوچھ تو وہ کتاب روشن کس نے اتاری جو موسیٰ لے کر آئے لوگوں اَنْزَلَ الْكِتَبَ الَّذِي جَاءَ بِهِ مُوْسٰى نُوْرًا کے لئے ہدایت جس کو تم نے کاغذوں کے تاؤ بنا وَهُدًى لِلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهُ قَرَاطِيْسَ رکھے ہیں جس کو تم ظاہر کرتے ہو اور بہت کچھ تُبْدُونَهَا وَتُخْفُونَ كَثِيرًا ۚ وَعُلِّمُتُم مَّا چھپاتے ہوئے اور تم کو وہ کچھ سکھایا گیا جس کو لَمْ تَعْلَمُوا أَنْتُمْ وَلَا آبَاؤُكُمْ قُلِ الله نہ تم جانتے تھے نہ تمہارے باپ دادا۔تو کہہ دے فقط اللہ ہی نے (ا تارا ہے ) پھر ان کو چھوڑ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِي خَوْضِهِمْ يَلْعَبُونَ دے وہ اپنی بکواس میں فرضی کھیل کھیلا کریں۔وَهُذَا كِتَب أَنْزَلْنَهُ مُبْرَك مُّصَدِّقُ ۹۳۔اور یہ کتاب جو ہم نے اتاری ہے برکت الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَلِتُنْذِرَ أَقَ الْقُرى والی ہے سچا بتاتی ہے ان کو جو اس سے پہلے ہیں تا کہ تو ڈرائے ملنے والوں کو اور اس کے آس پاس وَمَنْ حَوْلَهَا وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْآخِرَةِ والوں کو اور ان کو جو مرے بعد آخرت میں جی یعنی مطلب کی دکھاتے ہو غیر مطلب کی چھپاتے ہو۔(بقیہ حاشیہ) تَجْعَلُونَهُ قَرَاطِيْسَ - قَرَاطِيس - کاغذات - دفاتر۔طومار بڑا۔معمولی ورڈی کاغذ بنا رکھا ہے۔تُخْفُونَ كَثِيرًا۔یعنی مطلب کی دکھاتے ہو غیر مطلب کی چھپاتے ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ کتاب کے تمام احکام ماننا وہ اپنے مطلب کے موافق ہوں یا نہ ہوں اس سے تعارض کا راستہ ہٹ جاتا ہے۔مطلب حق کا مد نظر رکھنا چاہیے۔وَعُلِّمْتُمْ مَّالَمُ تَعْلَمُوا۔قرآن میں ہر ایک قسم کی آسانی رکھ دی ورنہ ہم کو اگر خود ذات سے تحقیقات کرنی پڑتی تو بڑے مشکلات ہوتے اور تحصیل علوم کرنا پڑتا۔بیچ فرمایا اللہ تعالی نے وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ ( القمر : ۱۸) قرآن کریم حصول صداقت کے لئے کس قدر آسان ہے۔آیت نمبر ۹۳ - لِتُنذِرَ اُفَ الْقُرى - عظیم الشان پیشگوئی ہے۔جب آنحضرت ﷺہ مشرکین عرب اور یہود سے مایوس ہوئے تو اللہ نے بشارت دی کہ تجھ پر ایسے لوگ ایمان لائیں گے جو کبھی انکار ہی نہ کریں گے۔عرب۔روم۔ایران۔افغانستان۔بلوچستان۔ہندوستان - چین - مثبت۔ترکستان۔روس وغیرہ ملکوں میں ہزاروں قو میں مسلمان ہوگئیں۔اُمّ القُری یعنی بستیوں کی ماں کیونکہ روحانی شیر تمام بستیوں نے اسی کی بافیض چھاتیوں سے پیا ہے اور تورات میں اس کا نام ناف زمین بھی ہے کیونکہ شکی بچہ ناف ہی کے ذریعہ سے پرورش پاتا ہے حز قیل کے ۳۸ باب میں ناف زمین کا تفصیلی ذکر ہے۔