اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 286
واذا سمعوا ٧ ۲۸۶ الانعام ٦ أَصْنَامًا أَلِهَةً إِلى آريكَ وَقَوْمَكَ چچا آزر سے کہا کیا تو مورتی ، دیویوں کو معبود مانتا إِنِّي فِي ضَللٍ مُّبِيْنٍ وَكَذَلِكَ نُرِى إِبْرَهِيمَ مَلَكُوتَ ہے اور میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں۔مَلَكُوتَ ۷۶۔اور ہم نے اسی طرح دکھائے ابراہیم کو آسمان السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ اور زمین کے ملک ( و عجائبات و تصرفات ) تا کہ الْمُوقِنِينَ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہو جائے۔فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ الَّيْلُ رَا كَوْكَبًا قَالَ ---- جب اس پر اندھیری رات ہوئی تو اس هذَا رَبِّي فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ نے ایک تارا دیکھا۔بولا کیا میرا یہی پروردگار ہو سکتا ہے پھر جب وہ تارا غروب ہو گیا کہا میں الْافِلِينَ پسند نہیں کرتا ڈوبنے والوں کو۔(بقیہ حاشیہ ) بابل پیدا ہوئے۔بڑے ہوئے تو وطن سے ہجرت کر کے پہلے حران میں آئے پھر مع اپنے بھتیجے لوط کے کنعان میں آئے اور شہر نابلس سے گزر کر بیت المقدس میں خیمہ لگایا پھر عرب ومصر میں بھی گئے۔ان کے بیٹے اسمعیل کی اولا د عرب میں آباد ہوئی۔دوسرے بیٹے اسحق سے بنی اسرائیل ہوئے جو شام میں رہے یہیں حضرت ابراہیم کی قبر مبارک ہے۔ان کے والد کا نام تارح اور چا کا نام آذر ہے کیونکہ والد کے لئے انہوں نے دعائیں مانگی ہیں جیسے سورۃ ابراہیم رکوع ۷ اپارہ ۱۲ میں رَبَّنَا اغْفِرْنِي وَلِوَالِدَيَّ آیا ہے مگر لفظ آب کے ساتھ دعا کرنے سے منع کئے گئے ہیں جیسے رکوع ۳ پارہ 11 میں۔وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ ابْرُ هِيْمَ لِأَبِيْهِ آیا ہے۔نمرود بادشاہ جو ضحاک تازی کا صوبہ تھا پہلے بزرگوں یا نبیوں کی پیشگوئیوں کی بنا پر حضرت ابراہیم سے ہراساں تھا اس لئے وہ لڑکوں کو قتل کر ڈالتا حاملہ عورتوں کی خبر رکھتا۔یہی وجہ تھی کہ اُن کے والدین نے اُن کو ایک غار میں چھپارکھا اور سن تمیز تک وہیں رہے اور ان کا ستاروں کو هَذَا رَبِّي هَذَا رَبِّی کہنا تحقیر کے لئے ہے اور اُن کے چھپ جانے کو حجت پکڑنا اُن کی تحقیر کی دلیل ہے اور آخر میں صاف لفظوں میں اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ میں ایسی مشرکانہ باتوں سے پاک صاف ہوں۔خود قرآن فرماتا ہے وَتِلْكَ حُجَّتُنَا أتَيْنُهَا إِبْراهِيمَ (الانعام: ۸۴) آیت اوّل یہاں هذا تحقیر ہی کے لئے ہے جیسا آهُذَا الَّذِي بَعَثَ اللهُ رَسُوْلاً (الفرقان : ۴۲) میں هذا ہے اور اس لفظ کے پڑھنے کے لئے ایک تحقیری لہجہ کی ضرورت ہے۔آیت نمبر ۶۔لِيَكُونَ مِنَ الْمُوْقِنِينَ۔یقین کی کوئی حد نہیں ، بڑھتا ہی جاتا ہے مگر عقائد وغیرہ چند امور میں۔