اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 285
واذا سمعوا ٧ ۲۸۵ الانعام ٦ وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلَى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ کو جو ہمیں نہ نفع دے سکتے ہیں نہ ضرر پہنچا سکتے ہیں کیا ہم الٹے پاؤں پھیرے جاویں اس کے هدنا اللهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيْطِيْنُ بعد کہ ہم کو اللہ نے راہِ راست دکھا دی جیسے کسی کو فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَه أَصْحَب دیوانہ بنا دیا ہو بہکا دیا ہو شیطانوں نے زمین يَدْعُوْنَةٌ إِلَى الْهُدَى انْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى میں پریشان کر کے۔اس کے دوست اس کو بلا اللهِ هُوَ الْهُدَى وَامِرُنَا لِنُسْلِمَ لِرَبِّ رہے ہوں سیدھی راہ کی طرف کہ ہمارے پاس چلا آ۔تم جواب دو پس ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے اور ہم کو تو حکم ہو چکا ہے کہ ہم ضرور فدائی فرمانبردار رب العالمین کے بن جائیں۔الْعَلَمِينَ وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتَّقُوهُ وَهُوَ الَّذِي ۷۳۔اور یہ حکم ہوا کہ نماز کوٹھیک درست رکھو اور اللہ ہی کو سپر بناؤ اور اسی کا خوف رکھو اور وہی إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ رب العالمین ہے جس کے حضور تم اکٹھے ہو گے۔وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمواتِ وَالْاَرْضَ ۷۴۔وہی تمہارا رب ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُوْلُ كُنْ فَيَكُونُ قَوْلُهُ اور زمین کو واقعی اور بیچ۔اور فوراً جس وقت فرمائے کسی چیز کو کہ ظاہر ہو تو وہ ظاہر ہو جاتی الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ہے۔اس کی بات بالکل سچ ہے اور اسی کی عَلِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ حکومت ہے جس دن پھو کا جائے گا ھور۔وہی چھپے اور کھلے کا جاننے والا ہے اور وہی بڑا پختہ کار الخَبِيرُ اور بڑا خبر دار ہے۔وَإِذْ قَالَ إِبْرَهِيمُ لِأَبِيهِ ازْرَ اَتَتَّخِذُ ۷۵۔اور وہ وقت یاد کرو جب ابراہیم نے اپنے آیت نمبر ۷۲- اسْتَهْوَتْهُ الشَّيطِيْنُ - اسْتَهَوَتْ مشتق ہے هَوَىٰ فِي الْأَرْضِ سے جس کے معنی ہیں بلندی سے گڑھے میں گرنا، شیطانوں۔بدمعاش ، کچے ، اللہ سے دور ہلاک ہونے والی روحیں ، ڈاکو وغیرہ۔آیت نمبر ۷۴۔يَقُولُ۔اسی طرح قیامت کو کہے گا کہ ظاہر ہو تو وہ ظاہر ہو جائے گی۔علِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ۔جو بُو د نہ ہو وہ غیب ہے اور جو بُو د ہو وہ اَلشَّهَادَة ہے۔الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ کے یہ بھی ایک معنی ہیں۔آیت نمبر ۷۵ - ابرهيم - حضرت ابراہیم حضرت عیسی سے قریباً دو ہزار برس پہلے عراق میں بمقام اہواز یا