اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 279
واذا سمعوا ٧ ۲۷۹ الانعام ٦ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلَى قُلْ هَلْ يَسْتَوِى کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں ( کہتا تو یہ ہوں) کہ میں کسی کی پیروی کرنے والا نہیں مگر اسی کی الْأَعْمَى وَالْبَصِيرُ أَفَلَا تَتَفَكَّرُونَ ﴾ جو میری طرف وحی کی جاتی ہے، اور کہہ دے کیا اندھا اور آنکھ والا تے دونوں برابر ہو سکتے ہیں تو کیا تم سوچتے نہیں۔وَأَنْذِرُ بِهِ الَّذِيْنَ يَخَافُونَ أَنْ يُحْشَرُوا ۵۲۔اور اس قرآن کے ذریعہ سے ڈرا اُن کو جو إلى رَبِّهِمْ لَيْسَ لَهُمْ مِنْ دُونِهِ وَلِى خوف رکھتے ہیں یہ کہ وہ اکٹھے کئے جائیں گے اپنے رب کی طرف اور اُن کے لئے اللہ کے سوائے کوئی حمایتی نہیں اور نہ شفیع ہے سکتا کہ وہ اللہ کو سپر بنائیں گے۔ولَا شَفِيعٌ لَعَلَّهُمْ يَثْقُوْنَ وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمُ بِالْغَدُوةِ ۵۳۔اور مت دھت کاروان لوگوں کو جو اپنے رب الْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ کو صبح و شام پکارا کرتے ہیں اُسی کا منہ دیکھنا چاہتے ہیں (بے ریا مخلص صرف مرضی حق پر حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ چلنے والے) جن کا حساب تجھ پر کچھ بھی نہیں اور مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّلِمِينَ نہ تیرا حساب اُن پر کچھ ہے تو تو دھکے دینے لگے اُن کو۔ایسا کرے گا تو تو بے جا کام کرنے لے یعنی جس پر وحی نہیں اترتی۔سے یعنی گناہ سے بچانے والا۔والوں میں سے ہو جائے گا ھے۔ے یعنی جس پر وحی اترتی ہے۔ے یعنی جو اللہ اور اس کے عذاب اور نافرمانی سے ڈرتے ہیں انہیں قرآن کی نصیحت فائدہ دیتی ہے۔یعنی کافروں کے نزدیک جو ذلیل ہیں وہ اللہ کے نزدیک عزیز ہیں۔آیت نمبر ۵۲ - الَّذِيْنَ يَخَافُونَ۔میں جو ایماندار، غریب، بے کس جیسے بلال بن مسعود، مقداد، عمار وغیرہ رضی اللہ عنہم بھی ہیں جن کو خشیت اللہ اور اللہ کے عذاب کا ڈر اور نا فرمانی کا خوف ہوا نہیں انذار القرآن سے فائدہ پہنچتا ہے اور اللہ جل شانہ کے فضل و رحمت ہی سے خاکسار انسان کی پرورش ہوسکتی ہے۔آیت نمبر ۵۳ - مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِھم۔یہ ایک محاورہ ہے جیسا کہ اردو میں کہتے ہیں کہ ہمارا ان کا کیا لین دین ہے یعنی کچھ تعلقات نہیں۔اسی طرح اس آیت شریف میں بھی بے تعلقی کا ذکر ان لفظوں میں کیا گیا ہے۔فَتَكُونَ مِنَ الظَّلِمِینَ۔قریش کے متکبر امراء جب آنحضرت ﷺ کی خدمت مبارک میں آتے تو خدا پرست