اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 278 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 278

واذا سمعوا ٧ ۲۷۸ الانعام ٦ قُلْ أَرَءَ يُتَكُمْ إِنْ أَنكُمْ عَذَابُ اللهِ ۴۸۔کہ دو دیکھو تو سہی اگر تم پر اللہ کا عذاب بَغْتَةً أَوْ جَهْرَةً هَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ یکا یک آپڑے یا کھلم کھلا تو کون ہلاک ہو گا سوائے بے جا کام کرنے والی قوم کے لیے۔الظَّلِمُونَ وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ ۹۔اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر وہ وَمُنْذِرِينَ ۚ فَمَنْ أَمَنَ وَأَصْلَحَ فَلَا دوستوں کو خوشخبری سنانے والا اور دشمنوں کو ڈرانے والا تھا تو جس نے مان لیا اور اپنی حالت خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ درست کر لی تو اس پر نہ کسی قسم کاغم ہوگا اور نہ وہ گزشتہ ہی عمل کے لئے پچھتائے گا۔وَالَّذِيْنَ كَذَّبُوا بِايْتِنَا يَمَسُّهُمُ الْعَذَابُ ۵۰ اور جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تو ان کو عذاب چھوئے گا کیونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ قُلْ لا أَقُولُ لَكُمْ عِنْدِي خَزَابِنُ اللهِ وَلَا ۵۱۔تو کہہ دے میں تو تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں اور نہ یہ کہتا اَعْلَمُ الْغَيْبَ وَلَا أَقُولُ لَكُمْ إِنِّي مَلَك ہوں کہ میں بڑا غیب کا جاننے والا ہوں اور نہ یہ 1 نیکی میں جلدی کرو تو بہ کرتے رہو کہ شائد اعضا پھر اپنے قابو کے نہ رہیں۔آیت نمبر ا۵ - عِنْدِي خَزَابِنُ اللہ۔مشرکین کے ملک میں پیدا ہونے والا کس صفائی سے خلاف حالات ملک اعلان کر رہا ہے یعنی سر دست میرے نزدیک موجود نہیں ہاں یہ غیب کی پیشگوئیاں ہیں اور میں ایک سچا رسول ہوں۔مجھے جو وحی ہوتی ہے وہ میں تمہیں سنا دیتا ہوں۔ان پیشگوئیوں کا ظہور یوں ہوا کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے کی کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ آگئیں گویا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ روحانی طور پر رسول اللہ اللہ کا دست مبارک تھا پیشگوئیں عطائے علم غیب کا پورا ثبوت دے چکیں اور کمال اطاعت نے فرشتہ ہونا ثابت کر دیا کہ لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا اَمَرَهُمُ - معراج شریف میں آپ تمام فرشتوں سے بالا تر مقام طے کر گئے۔اکثر عوام بزرگوں کو حاجت روا اور نعوذ باللہ بجائے خدا کے سمجھتے ہیں اور ان کے پیچھے تقویٰ کے لئے نہیں ، روحانی ترقی کے لئے نہیں بلکہ اغراض جسمانی کے لئے رہتے ہیں اس لئے حضور نے ان کے خیالات کا رڈ فرمایا اور کہہ دیا میں بندہ رحمن ہوں۔جو وہاں پسند ہوگا وہی میں کروں گا اور میں کچھ نہیں کرسکتا۔