اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 276 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 276

واذا سمعوا ٧ الانعام ٦ ج قُلْ اَرَيْتَكُمْ إِنْ أَنكُمْ عَذَابُ اللهِ ۴۱ - تو کہہ دے یہ تو دیکھو تم کہ اگر تمہارے أَوْ أَتَتْكُمُ السَّاعَةُ أَغَيْرَ اللهِ تَدْعُونَ سامنے اللہ کا عذاب آ موجود ہو یا موعود گھڑی آ جائے تو کیا اللہ کے سوائے اور کسی کو پکار نے إِن كُنتُمْ صَدِقِينَ لگو گے جب تم سچے ہو۔بَلْ إِيَّاهُ تَدْعُونَ فَيَكْشِفُ مَا تَدْعُونَ ۴۲۔ہاں بلکہ اسی کو پکارو گے تو وہ دور کر دے گا إِلَيْهِ إِنْ شَاءَ وَتَنْسَوْنَ مَا تُشْرِكُونَ بج جس کے لئے تم اس کو پکارو گے اس نے چاہا تو اور چھوڑ دو گے جس کو تم شریک کرتے تھے۔وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى أُمَمٍ مِنْ قَبْلِكَ ۴۳۔اور بے شک ہم نے رسول بھیجے تجھ سے پہلی فَأَخَذْتُهُمْ بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ امتوں کی طرف پھر ہم نے ان کو دکھ و تکلیف میں پکڑا تا کہ وہ عاجزی کریں اور گڑ گڑا ئیں۔يَتَضَرَّعُونَ فَلَوْلَا إِذْ جَاءَهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُوا وَلَكِنْ ۴۴ تو وہ کیوں نہ گڑ گڑا ئیں جب ان پر تکلیف ے یعنی ایسے وقت سوائے اللہ کے کسی کو نہ پکارسکو گے۔آیت نمبر ۴۔قُلْ اَرَيْتَكُمْ - اَرنَيْتَكَ میں کاف خطاب کا ہے بیٹی بھی آتا ہے۔مجموع بھی آتا ہے جیسے اَرَعَيْتَكُمَا اور اَرَتَيْتَكُم اور مونث کے لئے اَرتَیتُنَّ اور ان سب صورتوں میں ت مفتوح ہے ارء يُتَ کا لفظ عربی محاورہ میں دو معنی پر آتا ہے ایک آنکھ سے دیکھنا دوسرے اخبرنی کی جگہ یعنی مجھ کو بتلا۔آیت نمبر ۴۳ - وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا۔یہاں اَرْسَلْنَا کے ساتھ رُسُلَنَا محذوف ہے اور مِن قَبْلِكَ کے بعد فَكُذِّبُوا۔بِالْبَاسَاء - قسم قسم کے قحط ہنگی ہختی ، فقیری۔وَالضَّرَّآءِ۔قسم قسم کی بیماریاں ، لڑائی جھگڑے۔لَعَلَّهُمْ يَتَضَرَّعُونَ۔یہ بھی رسول کی شناخت کا ایک معیار ہے۔اس کے وقت میں قحط اور بیماریاں ہوتی ہیں تا لوگوں کو دنیا کی بے ثباتی اور اس کی تکالیف سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پیدا ہو جیسے ہم یہ قحط و بیماریاں مسیح موعود کے عہد میں دیکھ رہے ہیں۔انبیاء کے آنے کے بعد سختی اور تکلیفیں ہوتی ہیں تا کہ رجوع حق نصیب ہو۔عذاب تضرع سے ٹل جاتے ہیں بشرطیکہ اس میں شائبہ شرک نہ ہو، اللہ ہی کے حضور ہو۔