اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 274
واذا سمعوا ٧ ۲۷۴ الانعام ٦ اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ فَتَأْتِيَهُمُ بِايَةٍ وَلَو میں کوئی سرنگ یا آسمان میں کوئی سیڑھی پھر AN اُن کے سامنے کوئی نشان تو اگر وہ چاہتا تو ضرور شَاءَ اللهُ لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَهِلِينَ النصف سب ہی کو ہدایت دے دیتا تو (اے مخاطب) تو نادانوں میں سے نہ ہو جا۔اِنَّمَا يَسْتَجِيْبُ الَّذِينَ يَسْمَعُونَ ٣٧۔اس کے سوائے نہیں کہ وہی لوگ مانتے ۳۷۔وَالْمَوْلى يَبْعَثُهُمُ اللهُ ثُمَّ إِلَيْهِ ) میں (جو دل لگا کر ) سنتے ہیں اور اللہ مردوں کو زندہ کرے گا پھر وہ سب اسی کی طرف لوٹائے يُرْجَعُونَ جائیں گے۔وَقَالُوا لَوْلَا نُزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّنْ رَّبِّهِ قُلْ ۳۸ اور وہ کہتے ہیں کہ ہم پر کیوں نہیں اُتاری آیت نمبر ۳۶۔اَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ۔نبی کریم اللہ کے آسمان پر جانے کا ذریعہ تو خدا سیٹرھی تجویز کرے تعجب ہے کہ مسیح کے اتارنے میں خیالی سیڑھی مانتے ہیں مگر چڑھانے کے لئے کسی سیڑھی کا بیان نہیں کیا۔فَتَأْتِيَهُمْ بِايَة - تو کیوں تکلیف اٹھاتا ہے یہ ماننے والے نہیں اور نہ تو کوئی ایسی دلیل پیش کر سکتا ہے جس سے نہ ماننے والے مان لیں۔لَجَمَعَهُمْ عَلَى الْهُدَى - تو اب زبر دستی کسی کو منوانا یا نصیحت کو کوئی شخص نہ سنے تو براماننا فضول بات ہے یعنی جس کا جی چاہے خدا کو مانے اور جس کا جی چاہے نہ مانے خدا کسی پر نیکی یا بدی کرانے میں جبر نہیں فرماتا۔ہر ایک کو عقل وسمجھ دے دی ہے جو جیسا کرے گا وہ ویسا پائے گا مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا - فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْجَهِلِينَ۔یعنی زمین میں سرنگ لگانا یا آسمان پر چڑھ جانا خیالات واہیہ ہیں جو جاہلوں کے ہوا کرتے ہیں اور تیرا معلم اور بادی تو علیم خدا ہے اس لئے تو جاہلوں میں سے نہ ہو گا۔معراج ہمارے حضور کا ایک معجزہ ہے جو عین بیداری میں جسم کے ساتھ واقع ہوا اور وہ ایک کشف تام اور علم اولین و آخرین کا ظہور تھا یعنی جناب نے اوّلین و آخرین کی سیر طئے زمانی اور مکانی فرمالی اور ان واقعات کو دیکھ لیا جن کا ظہور اخیر سے اخیر وقت بلکہ قیامت کے بعد ہوگا وقوعاً ملاحظہ فرمالیا۔آیت نمبر ۳۷۔ثُمَّ إِلَيْهِ يُرْجَعُونَ۔یعنی دل لگا کر سنے والے مانتے ہیں اور مُردے کا فر تو اللہ ہی کے سامنے جا کر مانیں گے اور فتح مکہ کی تمثیلی بشارت بھی ہے کہ بعد فتح مکہ کے وہ کلام کو سن بھی لیں گے۔