اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 268
واذا سمعوا ٧ ۲۶۸ الانعام ٦ وَقَالُوا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ مَلَكَ 9۔اور یہ بھی کہتے ہیں کیوں نہیں اترا ان پر کوئی وَلَوْ أَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِيَ الْأَمْرُ فرشتہ اور اگر ہم اتارتے کسی فرشتے کو تو فیصلہ ہی ہو چکتا اور پھر ان کو مہلت بھی نہ ملتی۔ثُمَّ لَا يُنظَرُونَ ) وَلَوْ جَعَلْنَهُ مَلَكًا لَّجَعَلْتُهُ رَجُلًا۔ا۔اور اگر ہم کوئی فرشتہ رسول بنا کر بھیجتے تو اُس کو بھی مرد ہی کی صورت میں بنا کر بھیجتے اور ان پر وہی شبہ ڈال دیتے جو وہ اب شبہ کر رہے ہیں۔وللبَسْنَا عَلَيْهِمُ مَّا يَلْبِسُونَ ) وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ا۔اور کچھ شک نہیں کہ ہنسی اڑائی جا چکی ہے تجھ سے پہلے رسولوں کی بھی تو اُترا ان پر فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوا جنہوں نے ہنسی کی تھی وہی عذاب جس کی وہ ہنسی اڑاتے تھے لے بِهِ يَسْتَهْزِءُ ونَ قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا ۱۲ تم کہو ملک میں سیر کرو پھر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ قُلْ لِمَنْ مَّا فِي السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ قُل ۱۳۔یہ تو پوچھو کس کا ہے جو کچھ آسمانوں اور لِلَّهِ كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ - زمین میں ہے تم ہی کہو سب اللہ ہی کا ہے۔اس ے یعنی ان پر بھی ہنسی اُڑنے لگی اور وہ ذلیل وخوار ہو گئے۔آیت نمبر ۹۔وَلَوْ اَنْزَلْنَا مَلَگا۔تعجب ہے کہ سب نبیوں سے اس بات کا مطالبہ ہوا۔فرشتے اتارے جائیں مگر اللہ تعالیٰ کے حضور سے یہی جواب ملا کہ جس طرح تم چاہتے ہو اسی طرح اگر فرشتہ کا نزول ہو تو پھر فیصلہ ہو جائے۔مسیح موعود کے ساتھ بھی فرشتوں کا آنا ضرور ہے۔لیکن نہ اس طرح جس طرح لوگ کہتے ہیں۔آیت نمبر ۱۳ - كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ۔یعنی نبیوں اور کتابوں کا بھیجنا اور عاصی کی دعا قبول فرمانا جس سے بڑھ کر انسان کے لئے کوئی رحمت و مہربانی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے وجود باجود پر جو طالب عاصی اور موافق حدیث جس کا ترجمہ ہے۔" صد بار اگر تو به شکستی باز آ باز آ باز هر آنچہ ہستی باز آ گر کافر و گبرو بت پرستی باز آ این در گهه ما در گهه نامیدی نیست صد با را گر تو به شکستی باز آ لازم کر لیا ہے۔