اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 266
واذا سمعوا ٧ ۲۶۶ الانعام ٦ سُوْرَةُ الانْعَامِ مَكَّيَّةٌ وَّ هِيَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ مِائَةٌ وَّسِتٌ وَّ سِتُّونَ آيَةً وَ عِشْرُونَ رُكُوعًا بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ا۔ہم سورہ انعام کو پڑھنا شروع کرتے ہیں اس عظیم الشان اللہ کے اسم شریف سے جو رحم بلا مبادلہ کرنے والا اور محنت کو ضائع نہیں کرنے والا ہے۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى خَلَقَ السَّمواتِ ۲۔سب ہی تعریفیں اللہ ہی کو ہیں جس نے ۲۔وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلمتِ وَالنُّورَ ثُمَّ آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیرا اور اُجالا ٹھہرایا۔پھر بھی یہ حق چھپانے والے اپنے رب الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُوْنَ کے برابر دوسروں کو بتاتے ہی ہیں۔۔هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ طِينٍ ثُمَّ ٣ - وہی رب ہے جس نے تم کو پیدا کیا مٹی سے پھر ایک میعاد مقرر کر دی اس کے لئے اور اس ط قَضَى اَجَلًا وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهُ کے نزدیک ایک میعاد مقرر ہے (موت سے b ثُمَّ انْتُمْ تَمْتَرُونَ حشر تک ) پھر بھی تم شک ہی کرتے ہو۔وَهُوَ اللهُ فِى السَّمَوتِ وَ فِي الْأَرْضِ ۴۔وہی اللہ آسمانوں اور زمین میں ہے۔وہ يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ تمہارا چھپا اور کھلا جانتا ہے اور تمہاری کمائی مَا تَكْسِبُونَ ) بھی جانتا ہے۔تمہید۔سورہ انعام میں پندرہ سے بھی زیادہ رسالت پر دلائل ہیں ہمارے حضور کی تعلیم اس میں خصوصیت سے درج ہے۔آیت نمبر ۲ - الظُّلمت سے رات۔جہالت۔کفر و گمراہی۔گناہ۔بیجا خواہشات۔شیطان۔نفس امارہ۔دوزخ بھی مراد ہے۔النُّور سے دن علم و معرفت۔ایمان و ہدایت ، تقوی ، اطاعت انبیاء واولیاء نفس لوامہ مطمنہ۔بہشت ورضاء الہی۔یہ ثنویہ فرقہ ایرانی کا رڈ ہے جس کا مذہب ہے کہ یزدان اور اھر من دوخدا ہیں۔آیت نمبر ۳۔خَلَقَكُم مِّنْ طِينِ - جمع کے لفظ کی طرف دیکھو اور آدمیوں کی خلقت اور حضرت آدم کی خلقت پر نظر کرو۔مطلب یہ کہ آدمی کے اخلاط کس سے بنتے ہیں۔وَاجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَہ۔موت سے بعثت تک کا زمانہ اَجُلٍ مُسَمًّی کہلاتا ہے۔وہ اللہ ہی کو معلوم ہے۔