اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر

Page 265 of 1464

اوضح القرآن۔ قرآن مجید مترجم مع تفسیر — Page 265

واذا سمعوا ٧ وَاَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ با دوم ۲۶۵ المايدة۔وفات دے دی تو تو ہی اُن پر نگہبان رہا تھا اور تو ہر ایک چیز کا بڑا واقف حال ہے۔اِنْ تُعَذِّبُهُمْ فَإِنَّهُمُ عِبَادُكَ ۱۱۹۔اگر تو ان کو عذاب دے تو وہ تیرے ہی وَاِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ بندے ہیں اور اگر تو ان کی مغفرت کرے تو تیری ذات عزیز وحکیم ہے۔الْأَنْهُرُ خَلِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَضِيَ اللهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ قَالَ اللهُ هَذَا يَوْمُ يَنْفَعُ الصُّدِقِينَ ۱۲۰۔اللہ نے فرمایا یہی وقت ہے کہ سیچوں کو صِدقُهُمْ لَهُمْ جَنَّتٌ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا ان کی سچائی کام دے۔صادقوں کے لئے باغ ہیں جن میں بہہ رہی ہیں نہریں اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔اللہ ان سے خوش ہو گیا عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ذَلِكَ الْفَوْزُ ہے اور وہ اللہ سے راضی ہو چکے اور یہی ہے الْعَظِيمُ بڑی کامیابی کو پہنچنا۔لِلهِ مُلْكُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَمَا ۱۲۱۔اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمان اور زمین میں فِيهِنَّ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ہے اور جو اُن میں ہے اور وہ ہر ایک چیز کا بڑا اندازہ کرنے والا ہے۔آیت نمبر ۱۱۸- فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی۔اس میں مسیح نے اپنے مرنے کا خود اقرار کیا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ پوچھا کہ کیا تم نے لوگوں کو بتا دیا تھا کہ مجھے معبود بناؤ۔اس آیت سے مسیح کی وفات اس لئے بھی ثابت ہے کہ وہ اپنے مرنے کا اقرار کرتے ہیں اور اس لئے بھی کہ ان کی قوم کا بگاڑ اُن کے مرنے کے بعد ہوا، اور اس لئے کہ میسیج کو قوم سے جدا کرنے والی موت ہی ہوئی اور اس لئے کہ دونوں کلاموں کے درمیان حرف (ف) ہے جس سے اُن کا مرجانا اُن کی قوم سے علیحدہ ہونے کے ساتھ بالکل متصل ہے اور یہ کہ نبی کریم علی نے اس آیت کو اپنے اوپر چسپاں کیا جیسا کہ بخاری کتاب التفسیر سورہ مائدہ میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم و اصحابہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے صحابہ سے بعض کو دور ہٹایا جائے گا تو میں کہوں گا انہیں نہ ہٹاؤ۔یہ میرے صحابہ ہیں۔فرشتے کہیں گے کہ یہ آپ کے بعد مرتد ہوئے۔آپ کو خبر نہیں۔تو میں ایسا ہی کہوں گا جیسے مسیح نے کہا کہ میں اُن کا نگران تھا جب تک اُن میں تھا پس جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ہی اُن کا نگران تھا۔